قبروں کو منہدم کرنا وہابی کا شعار، مسجد کو باورچی خانہ بنانا حرام حرام!
کیا فرماتے ہیں علماے کرام اس مسئلہ میں کہ ایک قدیم مسجد چھوٹی تھی اور بالکل اس کے قریب ایک عظیم الشان بڑی جامع مسجد ہے اب وہابی عقائد کے لوگوں اور اماموں نے اس چھوٹی قدیم مسجد کے گنبد اور میناروں کو شہید کر کے اس کی ہیئت بدل کر تبلیغی جماعت ( الیاس پارٹی) کیلئے باورچی خانہ بنادیا ہے اس میں کھانا بنتا ہے حقہ نوشی ہوتی ہے بڑی جامع مسجد میں اب وہابی امام امامت کرتا ہے اور درود شریف نہیں پڑھتا۔ زید نے اسکو درود بعد نماز پڑھنے کو کہا تو جواب دیا کہ قرآن میں کہاں لکھا ہے کہ درود پڑھو۔ دریافت طلب یہ امر ہے کہ : قدیم مسجد جسمیں بزرگان دین نے سینکڑوں سال تک نماز و جماعت پڑھی ہو اور یہ شہری مسجد مسلمانوں کی دینی آثار و علامت کی یادگار تھی اسکے مینارے وگنبد شہید کر کے اندر ”بال" کی شکل میں مسافر خانہ کیلئے بنالی ہے کیا یہ جائز ہے میلاد و فاتحہ وغیرہ سب یہاں بند کر دی گئی ہے ، جواب مفصل عطا فرمائیں اور رسالہ اعلی حضرت میں بھی اس فتویٰ کی اشاعت ہونالازمی ہے تاکہ عوام ان وہابیوں کے کرتوتوں سے واقف ہوسکیں۔ لمستفتی : حمیدالدین،راجستھان
الجواب: و ہابیہ کا یہ فعل نہایت شفیع ہے اور انکی اسلام دشمنی کی کھلی دلیل ہے اور اس سے انکی ساختہ توحید جسکے سبب انبیاء و اولیاء کی تعظیم شرک ٹھہری اور جملہ مسلمائے امت جن میں بکثرت صحابہ وتابعین کرام شامل ہیں ان کی قبروں کو منہدم کرنا وہابی توحید کا شعار قرار پایا بھرم بھی کھل گیا کہ قبور کوڈھاتے ڈھاتے مسجدوں پر بھی نوبت آئی یہاں سے صاف ظاہر کہ وہابی نہ خدا کے ہیں نہ رسول کے، مسجد کو باورچی خانہ بنانا اور اس کے میناروں کو منہدم کرنا حرام حرام حرام بد کام بدانجام ہے مسجد تو مسجد ہے کسی وقف کو بدلنا ہرگز جائز نہیں۔ علماء بالاتفاق فرماتے ہیں: ،، لايجوز تغيير الوقف عن هيئته (1) تو مسجد میں وہ تصرف کس نے حلال کیا مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہابیوں کو اس فعل فتیح سے باز رکھیں اور مسجد کو ان کے قبضہ سے نکال کر آباد کریں یہ حق یہ حکم احکم الحاکمین صرف مسلمانوں کو ہے اور وہابی ہرگز مسلمان نہیں تو اسے مسجد آباد کرنے کا حق ہی نہیں ۔ قال اللہ تعالیٰ : إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسْجِدَ اللهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ (1) بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہابیہ مسجدوں کو آباد کرتے ہی نہیں جیسا کہ سوال سے بلکہ خود مشاہدہ سے ظاہر ہے کہ مسجدوں میں کھاتے اور پکاتے ہیں اور یہ فعل مسجد کی بے حرمتی ہے بلکہ مسجد کو اسکی مسجدیت سے نکالنا ہے اور اسے اپنا گھر بنانا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ ۱۱ ؍رجب المرجب ۱۳۹۵ھ دار الافتاء منتظر اسلام سوداگران، بریلی شریف