پیر کی پانچ انگوٹھیاں پہننے کی وصیت، لفظ فقیر کے حروف کی تشریح اور تبلیغی جماعت کا مسجد میں سونا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں : (1) اگر کوئی پیراپنے مرید کو وصیت کر جائے کہ تم پانچ انگوٹھیاں نگدار چاندی کی یا مختلف دھات کی پہن سکتے ہو اور مرید کو ایسی انگوٹھیاں نشانی کے طور پر دی جائے تو یہ وصیت جائز ہے یا نا جائز اس پر عمل کیا جائے یا نہیں اور پیر کی دی ہوئی مختلف دھات کی انگوٹھیاں پہنے یا نہیں؟ (۲) فقیر میں چار حرف ہیں ف، ق ، ی ، ر، کہتے ہیں ف سے فاقہ ق سے قناعت، ہی سے یا دالہی، رسے ریاضت۔ جس فقیر میں مذکورہ چاروں خوبیاں ہوں تو وہ اصلی فقیر ہے ، وہ پستی سے بلندی پر پہونچ جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کو چار طرح سے نوازتا ہےف سے فضل ربی ، ق ، سے قرب خداوندی ہی ، سے یا دالبی ، رسے رحمت باری اور جس فقیر میں مذکورہ چار خوبیاں فاقہ ، قناعت، یا دالبی اور ریاضت نہیں ہے تو وہ نقلی اور ڈھونگی فقیر ہے وہ بلندی کے بجائے پستی میں ڈھکیل دیا جاتا ہے اس کی قسمت میں چار چیزیں ہیں' سے فضیحت ، ق سے قہر الہی ہی سے یاس ، ڑ سے رسوائی۔ اب دریافت طلب بات یہ ہے کہ اس کی اصل حقیقت کیا ہے اور فقیر کی صحیح تعریف کیا ہے اور بہت سے مفتیان کرام خود اپنے آپ کو فقیر کس بنیاد پر لکھتے ہیں۔ (۳) تبلیغی جماعت والے مسجد میں سوتے ہیں اور کہتے ہیں اعتکاف کی نیت کر لی ہے اور اعتکاف کی نیت کرنے کے بعد مسجد میں رہ سکتے ہیں سو سکتے ہیں۔ ان کی اس بات کا کیا جواب دیا جائے ان کو مسجد میں سونے دیا جائے یا نہیں ؟ اگر نہیں تو کیوں اور کیا کہہ کر منع کیا جائے گا؟
الجواب: المستلقي : محمد ظفر (۱) نہیں، اور یہ وصیت ناجائز و گناہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) فقیر نے جو نکتے بیان کئے صحیح ہیں البتہ فاقہ کا لازم کرنا جو ان نکتوں کا مفاد ہے وہ درست نہیں اسلام میں بے وجہ شرعی فاقہ کی اجازت نہیں نہ جائز وحلال کھانوں کو جائز طور پر کھانے سے ممانعت ہے اور فقیر حقیقہ وہ ہے جو تبع شریعت ہو اور مسلم مساکین کو پسند کرتا ہو اور خود مسکین طبع ہوسرکش نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کی طرف احتیاج کا مستحضر اور اسکی طرف راغب اور آخرت کیلئے اعمال صالحہ کے ذریعے ساعی ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) تبلیغی جماعت دیوبندی گروہ ہے اور دیو بندی اپنے عقائد کفریہ کے سبب کا فر بیدین ہیں ایسے کہ جو ان کے کفر پر مطلع ہو کر ان کو مسلمان جانے وہ خود کا فر ہے دیکھو حسام الحرمین میں ہے: وو من شک فی کفره و عذابه فقد کفر (۱) تبلیغیوں کا مقصد تحریک صلواۃ نہیں بلکہ اشرفعلی تھانوی کی تعلیم کو عام کرنا ہے دیکھو ملفوظات الیاس اور دینی دعوت اور جب تبلیغی دیو بندی گروہ ہیں اور وہ کفری عقائد کے سبب کا فر ہیں تو سنیوں کی مساجد میں انہیں آنا ہی کب روا ہے کہ مسجد کو آباد کرنا نی صحیح العقیدہ مسلمان کا حق ہے نہ کہ کسی کافر بے دین کا ، قال اللہ تعالی : مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِيْنَ أَنْ يَعْمُرُوا مَسْجِدَ اللهِ شَهِدِيْنَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ (۲) یعنی کافروں کو نہیں پہنچتا کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں اپنے کفر پر گواہ ہو کر۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۵ ر رمضان المبارک ۲۰۰