نصوص قطعیہ میں ترمیم، بد مذہبوں سے سیاسی ملاپ اور عورتوں کی تقریر کا شرعی حکم
(1) کیا نصوص قطعیہ میں بھی اور اوامر ونواہی میں بھی مصلحت وقت کے پیش نظر کچھ ترمیم ہوسکتی ہے؟ (۷) حضور جان ایمان صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں سے کی عداوت جو بحکم قرآن و حدیث نجات اخروی کا باعث ہے اس مخلوط مین سے عوام کے دلوں سے یک لخت نہیں نکل جائیگی یا بزبان مجدد بریلوی و ثمن احمد پہ شدت کیجیے شدت کم نہ ہو جائے گی ؟ (۸) کیا دشمنان رسول کو اپنے اسٹیج پر بلا کر بٹھانا اور ان سے تقریریں کرانا ان کی تعظیم نہیں ؟ اگر نہیں تو کیوں نہیں؟ فرمایا کہ جس نے کسی بد مذہب کی تعظیم کی اس نے اسلام کے ڈھانے میں مدد کی ۔ (۹) اگر بد مذہبوں سے سیاسی ملاپ کیا جائیگا تو پھر بدمذہبوں کی تردید جو حسب استطاعت فرض ہے وہ فرض کیونکر ادا ہوگا اگر فرض کی ادائیگی کی جائیگی تو ملاپ نہ رہیگا پھر اختلاف شروع ہو جائیگا۔ (۱۰) اگر ہندوستان میں مسلمانوں کی اقلیت ہے اور تعداد بڑھانے کے لئے سنگٹھن کا ہاتھ بڑھایا جائے تو سارے کلمہ گو جمع ہو کر مشرکین ہند کے مقابل اقلیت میں ہی رہیں گے کامیابی وفتح تو اقلیت واکثریت پر موقوف بھی نہیں قرآن نے تو مؤمنین مخلصین کی کامرانی کا مژدہ سنایا ہے کیا دشمنان خدا و رسول سے یارا نہ کیا جائے اور مؤمن ہونے میں فرق نہ آئے؟ (11) کیا سچا سنی مسلمان سیاسی معاملات میں احکام شریعت سے بے نیاز ہو جاتا ہے؟
الجواب: (1) نہیں ، بلکہ بدکام کفر انجام ہے۔ اللہ تعالیٰ اعلم (۲) عورتوں کو غیر محرم مردوں کے ساتھ بیٹھنا بے ضرورت حرام اور بے پردہ ہونا اور اشد حرام اور ان کا تقریر کرنا حرام در حرام اور قلب موضوع ہے اس امر پر ائمہ کا اجماع ہے کہ عورت داعی الی اللہ نہیں ہو سکتی تو اسے مقرر بنانا کیونکر درست ہوگا میزان الشریعہ الکبریٰ میں ہے: وقد أجمع اهل الكشف على اشتراط الذكورة في كل داع الى الله ولم يبلغنا ان احدا من نساء السلف الصالح تصدرت لتربية المريدين ابدا لنقص النساء في الدرجة ) واللہ تعالیٰ اعلم (۳) نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) شریعت پر افتراء اور شدید جرات سخت حرام کفر انجام ۔ اللہ تعالیٰ اعلم (۵) نہیں اور ایسا نام رکھنے والا سخت گنہگار مستحق نار ہے اس پر تو بہ لازم ہے اور اس نام سے ایہام نہ ایہام بلکہ تبادر ہوتا ہے کہ اس میں شامل ہونے والے مرتد و کا فرسب مسلم ہیں۔ اور کھلے مرتد اور کا فرکو مسلم کہنا کفر ہے جس طرح مسلم کو دانستہ کا فر کہنا کفر ہے لہذا جس نے ایسا نام رکھا تجدید ایمان بھی کرے اور بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے اور یہی حکم انکا ہے جو سمجھ بوجھ کر ایسے نام سے راضی ہوئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (4) نہیں اور جہاں ضرورت شرعیہ یا حاجت شرعیہ کے سبب رخصت ہے وہ شرعی رخصت ہے نہ کہ علم شرع کی تغییر و ترمیم ۔ واللہ تعالی اعلم (۷) دونوں باتوں کا مظنہ اور صیح اندیشہ ہے اور یہ سخت مضر اسلام ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۸) بے شک یہ فعل تعظیم دشمنان رسول علیہ الصلاۃ والسلام ہے اور ایسے لوگ اس فرمان نبوی کے بدرجہ اولیٰ مصداق ہو کر ہادم اسلام ہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۹) بیشک یہ ملاپ فرض کی ادائیگی میں خلل انداز ہے اور اتحاد مناناحکم خداورسول جل وعلا وسانی پینم کی مخالفت بلکہ مشیت الہی کی مخالفت ہے اور مشیت الہی کا خلاف ناممکن ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۰) زبان حال یہی کہتی ہے اور انہیں راز دار بنانا ان پر بھروسہ کی کھلی دلیل ہے اور یہ شرعا حرام مضر اسلام ہے۔ قال تعالى : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِنْ دُوْنِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا اے ایمان والوغیروں کو اپنار از دار نہ بناؤ ، وہ تمہاری برائی میں کمی نہیں کرتے۔ مومن کو مخالفت کفار کا حکم ہے اور پکا مومن وہی ہے جو اللہ ورسول کے سچے وعدوں پر یقین رکھے اور ان کے احکام پر بجا آوری کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (11) نہیں حکم شرع سے کوئی مکلف بے نیاز نہیں ہوسکتا اور جو خود کو یا کسی کو احکام شرع سے بے نیاز سمجھے وہ مسلمان ہی نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم