کافر کی تعظیم کفر ہے صلح کلی کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہئے !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ: صلح کلی کس کو کہتے ہیں صلح کلیوں کے ساتھ ملکر نماز درست ہے یا نہیں یعنی ایک ہی مسجد یا صف میں صلح کلی اور اہل سنت ہوں تو اہل سنت کی نماز ہوگی یا نہیں؟ آپ کا خادم : محمد یونس ایکسپارٹ ہوٹل ، ایم ۔اے۔ایم ۔سی درگاه پور 713210 ضلع پر دوان، بنگال
الجواب: ایسا صلح کلی جود یو بندیوں وغیر ہم کو جسکی بد مذہبی حد کفر تک پہنچ گئی دانستہ مسلمان جانے انہیں کی طرح میرند، بے دین ہے۔ اس کے پیچھے نماز باطل محض ہے بلکہ اسے دانستہ امام بنانا کفر ہے کہ تعظیم کا فر ہے اور تعظیم کا فر کی کفر ۔ کفایہ میں ہے: ” والكافر لا صلاة له فالاقتداء بمن لا صلاة له باطل (1) “ در مختار میں ہے: ”لوقال لمجوسى يا استاذ كفر لان تبجيل الکافر کفر“۔ ملخصا (۲) واللہ تعالیٰ اعلم اور انہیں صف میں کھڑا کرنا حرام ہے اگر چہ نماز ہو جائے گی اور ان سے قطع صف ہوگا لہذا باوصف قدرت انہیں ہرگز صف میں کھڑا نہ ہونے دیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی دارالافتاء منظر اسلام، محلہ سوداگران، بریلی شریف شرح فتح القدير مع الكفايه ، كتاب الصلاة باب الامة ، ج ۱، ص ۳۲۴، دار الكتب العلمية، بيروت الدر المختار، كتاب الحظر والاباحة ، ج ۹، ص ۵۹۲، ۵۹۱، دار الکتب العلميه، بيروت