دیوبندی سے سنیہ کے نکاح کا حکم اور مہا بھارت دیکھنے کا مسئلہ
دیکھا اس کا دیکھنا کیسا ہے؟ جبکہ عمرو یہ کہتا ہے کہ اگر کوئی مہا بھارت دیکھے تو اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا اس پر تجدید نکاح لازم ہے یہ کہنا کیسا ہے؟ کیا زید کی بیوی عدت گزارنے کے بعد دوسرے سے نکاح ثانی کر سکتی ہے یا نہیں اگر نفی میں جواب ہے تو کیوں؟ نیز اگر من حیث التردید مہا بھارت کو دیکھا جائے تو دیکھ سکتے ہیں یا نہیں ؟ اگر نہیں تو کیوں ؟ مدلل و مفصل جواب تحریر فرما ئیں۔ المستفتی: محمد سیم الدین اشرفی دار العلوم ضیاء الاسلام ٹکیہ پاڑہ ، ہاوڑہ ، بنگال
الجواب: دیو بندی اپنے عقائد کفریہ کے سبب ایسے کا فربے دین ہیں کہ علمائے حرمین شریفین مصر و شام و ہند وسندھ نے ان کے بابت فرمایا کہ: من شک فی کفره وعذابه فقد کفر (۱) جو جان بوجھ کر ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی انہیں کی طرح کا فر ہے۔ یہاں سے تبلیغی نام نہاد جماعت اسلامی کے حکم کا بھی خلاصہ ہے کہ وہ بھی انہیں کی طرح کا فر ہیں اس لئے کہ دیو بندی کو مسلمان جانتے ہیں۔ اور مرتد کا نکاح عالم میں کسی سے درست نہیں۔ لہذا د یو بندی کا نکاح نہ سنیہ نہ کافرہ نہ اپنے مثل دیو بند یہ عورت سے درست ہو۔ عالمگیری میں ہے: لا يجوز للمرتد ان يتزوج مرتدةً ولا مسلمة ولا كافرة اصلية وكذلك لا يجوز نكاح المرتدة مع احد کذافی المبسوط “(۲) بنابریں صورت مسئولہ میں سنیہ کا نکاح دیو بندی سے نہ ہوا بلکہ نکاح کے نام پر عقد سفاح (زنا) ہوا، اور جتنی قربت ہوئی خالص زنا۔ جن لوگوں نے دانستہ یہ نکاح کرایا اور جو اس میں دانستہ شریک ہوئے سب گنہ گار مستوجب نار ہوئے ان سب پر تو بہ لازم ہے اور معاذ اللہ اگر اس ناجائز عقد کو جائز سمجھا تو تجدید ایمان بھی فرض اور بیوی والوں پر تجدید نکاح بھی لازم ۔ لڑکی کو اختیار ہے کہ جس سنی صحیح العقیدہ سے چاہے نکاح کرے مگر قانونی دشواری سے بچنے کے لئے کچہری سے آزادی کا پروانہ لے لے اگر چہ یہ پروانہ آزادی شرعا کوئی چیز نہیں اس لیئے کہ اس صورت میں تو عقد نکاح سرے سے ہوا ہی نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) نکاح پڑھانے کا حکم او پر گذرا اور دیو بندی کی نماز جنازہ پڑھنا پڑھا ناسخت حرام بد کام کفر انجام ہے۔ ردالمحتار میں ہے: الدعاء بالمغفرة للكافر كفر لطلبه تكذيب الله تعالى فيما اخبر به (1) تو به وتجدید ایمان وغیرہ لا زم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) ان کا حکم اور ان کے مرتد ہونے کی وجہ سے کسی سے نکاح نہ ہونے کا بیان او پر گذرا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) اسے امام بنانا گناہ اور اس کی اقتدا میں نماز پڑھنا گناہ اور اس کا پھیرنا واجب ہے۔ در مختار میں ہے: وو لوقدموافاسقايأثمون“(۲) و كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها (۳) یہ حکم اس وقت ہے جبکہ اس کا یہ جرم ثابت ومشتہر ہو ۔ اللہ تعالیٰ اعلم (۵) اگر یہ واقعہ ہے اور شرعاً ثابت و مشتہر ہے تو وہ شخص فاسق معلن ہے اس کی اقتدا میں نماز پڑھنا منع ہے اور اسے ابتدا بسلام مکروہ و ممنوع ۔ درمختار میں ہے: ویکرہ السلام على الفاسق لو معلنا (۲) مگر اس کے ہاتھ کا ذبیحہ جائز ہے جبکہ عیاذ باللہ بد عقیدہ نہ ہو۔ البتہ اس سے ذبح نہ کرائیں کہ اس سے مقاطعہ کا حکم ہے اور جمعہ کی نماز اگر کسی پابند شرع کے پیچھے نہ ملے تو اس کی اقتدا مجبوری کر سکتے ہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) مہا بھارت وغیرہ بہ رضا ورغبت دیکھنا مشرکین کے مذہبی جلسوں میں شرکت اور ان کے شرکیہ مناظر کو بخوشی دیکھنے دکھانے میں ان سے مشابہت ہے جس کی حرمت میں اصلا شک نہیں اور چونکہ یہ شعار کفر ہے لہذا اس سے تو بہ تجدید ایمان اور شادی شدہ لوگوں پر تجدید نکاح بھی لازم اور من حیث التر دید دیکھنے کا کیا مطلب ہے؟ ۔ واللہ تعالیٰ اعلم