غیر مقلدین اپنے عقائد کفریہ کے سبب بے دین ہیں، بینک ڈا کھانے کا منافع کیسا ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ : (1) ایک کھیت ہندو کا ہے اور وہ ہندو مسلمان سے یہ کہتا ہے کہ میرا ایک بیگھہ کھیت ہے وہ مسلمان سے چار سو روپیہ میں گروی رکھنا چاہتا ہے مگر وہ یہ کہتا ہے کہ میں جب تمہارے چار سو روپیہ دے دوں تو ہمارا کھیت ہم کو واپس کر دینا جب تک آپ کھیت کی فصل کھا سکتے ہیں مگر مسلمان یہ کہتا ہے کہ ہمارے لئے اس طرح بیاج ہو جاتا ہے مگر کچھ لوگوں کا کہنا ہے اب اس کھیت کا لگان دے کر جائز ہو جاتا ہے آپ صاف صاف تحریر فرمادیجئے۔ (۲) بینک ڈاکخانہ کا منافع جائز ہے یا نہیں مگر ایک رسالہ کے اندر جائز لکھا تھا۔ (۳) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد سنیوں کی ہے مگر سنیوں کی رشتہ داری وہابی غیر مقلد کے یہاں پر ہے رشتے داری کے ناتے اس کی شادی میں ہوتے میں، کھانے میں اس کی دعوت کرنا پڑتی ہے رشتہ داری کے ناتے ان کے جنازے کی نماز پڑھتے ہیں ایک غیر مقلد کا جنازہ سنیوں کی مسجد کے پاس آیا امام کو اس بات کا علم نہ تھا مگر مقتدیوں کو معلوم تھا امام نے نماز پڑھائی سب نے نماز پڑھی تیسرے دن معلوم ہوا کہ یہ جنازہ غیر مقلد کا تھا ایسے مقتدیوں پر کیا حکم ہے؟ اور سنی امام کو اس مسجد میں رہنا چاہیے یا نہیں؟ سائل : حافظ محمد نعیم صاحب، اجھیانی ضلع بدایوں یوپی
الجواب: صورت مسئولہ میں جبکہ یہ معاملات ہندو سے ہے تو مسلمان کو اس کے کھیت سے نفع اٹھانا جائز ہے ۔ وھو تعالیٰ اعلم (۲) بینک وڈاکخانہ کا منافع سود نہیں خالص مباح ہے تفصیل کے لیے رسالہ بینک دیکھئے۔ وھو تعالیٰ اعلم (۳) غیر مقلد اپنے عقائد کفریہ کے سبب بے دین ہیں ان کے جنازے کی نماز پڑھنا حرام بد کام بدانجام ہے مقتدیوں پر تو بہ لازم ہے اور امام کو اگر علم نہ تھا تو وہ ملزم نہیں ۔ دھو تعالی اعلم صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۲۲ ؍ ربیع الآخر ۱۴۰۲ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی