دیو بندیوں سے میل جول رکھنے اور ان کے ساتھ کھانا کھانے والوں کا حکم
علمائے اہل سنت السلام علیکم ! بعد سلام کے عرض گزارش یہ ہے کہ ایک امام جو کہ دیوبندی ہے اور اس کے خاندان کے کچھ لوگ دیوبندی ہیں اور کچھ لوگ سنی ہیں اور بعض دونوں سے تعلق رکھتے ہیں، اتنے میں سنیوں کی طرف ایک میت ہو گئی اس میت کے دسواں کی تاریخ مقرر ہوگئی اور اسی تاریخ کو ایک شخص جو کہ دونوں کا ماننے والا تھا اپنے یہاں شادی کی تاریخ دسواں سے ملا کر کے رکھی جس کے گھر شادی تھی اس نے کہا کہ ہم دونوں پارٹیوں کو کھانا کھلائیں گے اس سے پہلے اہل سنت نے کہا کہ اگر دیو بندی کھانا کھا ئیں گے تو ہم نہ کھائیں گے اور اگر ہم کھائیں گے تو دیو بندیوں کو کھانے نہیں دیں گے سبھوں نے یہی طے کیا کہ بہر حال جہاں دیو بندی کھائیں گے وہاں ہم کھائیں گے نہیں ، کیوں کہ ان پر کفر کا فتویٰ علمائے اہل سنت دے چکے ہیں اس مشورہ کو سنیوں نے منظور کر لیا اس دسواں میں دیو بندیوں کے علاوہ سب نے کھانا کھایا اور شادی میں کھانے سے انکار کر دیا اور جو علمائے اہل سنت امام و مؤذن ہیں اس کے چچا کے یہاں دیوبندیوں کا آنا جانا تھا، امام ومؤذن نے باعلان کہا کہ جو شادی میں دیو بندیوں کے ساتھ کھا آئے وہ دسواں میں نہ کھائے لیکن ان کے چچا نے مانا نہیں دسواں میں کھایا پھر اس کے بعد شادی میں کھایا اس پر امام ومؤذن نے جھگڑا کر لیا کہ جب تم کو
الجواب:وہ شخص جس کے یہاں شادی ہوئی اگر دیوبندیوں کو ان کے عقائد کفریہ پر مطلع ہو کر مسلمان جانتا ہے تو وہ کافر مرتد بے دین ہے اس کے یہاں کھانا کھانا، اس سے میل جول حرام اور بد کام بدانجام ہے اور اس کے یہاں چلنے کی دعوت جس نے دی وہ ان سب کا سر دار سب سے زیادہ عذاب کا سزاوار ہے اور اگر و شخص دیو بندی نہیں نہ انہیں مسلمان سمجھتا ہے مگر ان سے میل جول ترک نہیں کرتا تو بھی یہ حکم ہے کہ جب تک تو بہ نہ کرے اور دیو بندیوں کے یہاں آنا جانا نہ چھوڑے اس سے میل جول منع ہے واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله