نماز جنازہ کی صفوں کا فاصلہ اور بدمذہبوں کی نماز جنازہ پڑھانے کا معاہدہ کرنے والے امام کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دیں و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسائل میں کہ: نماز جنازہ کی صفوں کے درمیان کتنی جگہ چاہیے ؟ ہمارے یہاں قبرستان سے قریب مسجد میں تھوڑی ی جگہ خارج ہے جہاں جنازہ کی نماز پڑھی جاتی ہے لیکن جگہ کی قلت اور کثرت انسان کے سبب صفیں اس طرح قائم کی جاتی ہیں کہ آگے اور پیچھے کے لوگ ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں اور درمیان میں جگہ بالکل نہیں رہ جاتی حالانکہ قبرستان سے متصل ایک وسیع و عریض میدان ہے جہاں لاکھوں انسان بالفصل صفیں قائم کر کے نماز جنازہ ادا کر سکتے ہیں۔ تو ایسی صورت میں نماز جنازہ کہاں پڑھنا بہتر وانسب ہے؟ نیز جائے مذکورہ میں سنی کے علاوہ وہابی تبلیغی وغیرہ مرتدین کی بھی نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے اور موجودہ امام کی تقرری کے وقت اس سے اس پر عہد و پیمان لیا گیا اور اس نے اقرار کر کے دستخط بھی کر دیا۔ تو وہابی اور تبلیغی جیسے مرتدین کی نماز جنازہ پڑھانے کے اقرار نامہ پر اثبات میں دستخط کر دینے سے اس کی امامت کا کیا حکم ہے؟ بینوا تو جروا المستفتی محمد سعید احمد عثمانی ، پلید گجرات
الجواب: نماز جنازہ کی صفوں کے درمیان اظہر یہی ہے کہ جگہ کشادہ ہونے کی صورت میں اتنا ہی فاصلہ چاہیے جتنا اور نمازوں کی صفوں میں ہوتا ہے۔ جگہ اگر کشادہ نہ ہو تومل جانے میں حرج نہیں۔ اور بہتر یہی ہے کہ کشادہ جگہ میں نماز جنازہ پڑھی جائے اور وہابی دیوبندیوں کی نماز جنازہ پڑھنا حرام بلکہ علمانے کا فر کے لیے دعائے مغفرت کو کفر فرمایا ہے۔ جس امام نے ایسے اقرار نامے پر دستخط کیے اس پر تو بہ و تجدید ایمان و تجدید نکاح لازم ہے ، وہ امامت کے لائق نہیں جب تک تو بہ و تجدیدا ایمان وغیرہ نہ کرے۔ (1) دو در مختار میں ہے: والحق حرمة الدعاء بالمغفرة للكافر لا لكل المؤمنين كل ذنوبهم - الخ ) ردالمحتار میں اسی کے تحت امام قرافی سے ہے: الدر المختار، کتاب الصلاة باب صفة الصلاة ، ج ۲، ص ار الكتب العلمية، بيروت الدعاء بالمغفرة للكافركفر لطلبه تكذيب الله تعالى فيما أخبر به (۱) در مختار میں ہے: ”ما يكون كفرا اتفاقا يبطل العمل والنکاح واولاده أولاد زنا ومافيه خلاف يؤمربالاستغفار والتوبةوتجديد النکاح اه (۲)۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله