مودودی کی کتابوں اور تفہیم القرآن کے مطالعہ اور درس کا حکم
عالی جناب محترم المقام صد احترام علامہ مفتی شاہ اختر رضاخاں از ہری صاحب قبلہ مدظلہ العالی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوگا کیا فرماتے ہیں علمائے دین و شرع متین کہ مولانا مودودی نے جو قرآن شریف کا ترجمہ و تفسیر لکھی ہے ( تفہیم القرآن) اسی تفہیم القرآن میں اس نے انبیاء واولیا کی تعظیم وتکریم اور محبت سے لوگوں کو توڑنا چاہا ہے چنانچہ صاف لکھتا ہے۔ پس اگر کوئی اس کا مستحق ہے کہ ہم اس کے گرویدہ اور پرستار احسان مند اور شکر گزار نیاز مند اور خدمت گار بنیں تو وہ خالق کمال ہے نہ کہ صاحب کمال ج ا تفہیم القرآن، اس کا پڑھنا یا سننا مسجدوں میں جو تفہیم القرآن کا درس ہوتا ہے اس میں بیٹھنا کیسا ہے؟ علمائے حق نے تفہیم القرآن کا درس سننے سے کیوں منع فرمایا ہے؟ ہمیں مدلل جواب سے نوازیں۔ یہ وہی بولی ہے جو تقویت الایمان میں اسمعیل دہلوی نے بولی کہ اللہ کو مان اوروں کو مانا خبط ہے والعیاذ باللہ العلی العظیم ۔ لمستفتی : سلیم احمد خاں رضوی معرفت نازنیکسی سینٹر انوار بازار مسجد کے پاس پوسٹ آکوٹ ضلع اکولہ مہاراشٹر
الجواب: مودودی کی کتابیں بے دینی سے بھری ہوئی ہیں۔ تفہیمات میں اس نے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کو، ان پڑھ، بادیہ نشیں اور سید ما موسی علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کو ” مقدس چرواہا“ لکھا اور تنقیحات میں تفسیر وحدیث کی کتب کی یوں تو ہین کی اور تمام کتابوں کا یوں انکار کیا کہ قرآن وسنت کی تعلیم سب پر مقدم مگر تفسیر وحدیث کے پرانے ذخیروں سے نہیں، خود اسی تفہیم القرآن میں وَ يَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ “ کے ترجمہ میں اللہ کو چال چلنے والا لکھا ہے اسی تفہیم القرآن میں خدا کے متعلق لکھا ” اللہ ان سے مذاق کر رہا ہے ، ص ۵۴۔ اور یہ صریح تو ہین خدائے عزوجل ہے بنا بریں اس کی کتب کا مطالعہ ناجائز وحرام ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۴ رذی قعدہ ۱۴۱۳ھ