دیوبندیوں پر علماے حرمین شریفین کے کفر کا فتوی اور وہابیوں کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و شرع متین اس مسئلہ میں کہ : (1) کچھ لوگوں نے مؤذن صاحب سے پوچھا کہ حضرت کب تشریف لا رہے ہیں حج سے تو مؤذن نے جواب دیا کہ کا فر چھوڑمیں جب آئیں گے۔ (۲) کیا وہاں کی حکومت کو کافر کہہ سکتے ہیں یا نہیں اگر کسی شخص نے وہاں کی حکومت کو کافر کہ دیا تو ایسے شخص کے بارے میں شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے جو اب قرآن وحدیث کی روشنی میں عنایت فرمائیں۔ لمستفتی: حامد یار خاں وارثی متولی مسجد خدا بخش محله گدڑ باغ، بریلی شریف
الجواب: وہ لوگ وہابی ہیں اور وہ وہابیہ مسلمانوں کو توسل و استمداد وشفاعت اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے لیے علم غیب ماننے پر کافر و مشرک کہتے ہیں اور بہت سے معمولات اہل سنت جو صد ہا برس سے بلانکیر رائج ہیں مثلاً صلاۃ وسلام ومیلا دو قیام ، اس کے بھی منکر ہیں اور ان باتوں پر بھی مسلمانوں کو بدعتی و کافر کہنے میں باک نہیں رکھتے مگر ہمیں یہ حکم نہیں کہ کسی کو بے وجہ تکفیر قطعی ، کا فرقطعی کہیں ملکفر قطعی ضروریات دین کا انکار اور اللہ و رسول جل وعلا وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی صریح اہانت ہے ایسی جس میں کوئی پہلو مانع تکفیر نہ ہو، یہ مذہب متکلمین ہے یہی معتمد ہے یہی احوط ہے۔ نہ دیو بندیوں سے اللہ و رسول جل وعلا وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کی تو ہین اور ضروریات دین کا انکار صاف صریح صادر ہوا لہذا ان پر علماے حرمین شریفین و مصر و شام وہند وسندھ سب نے ایسا حکم کفر دیا کہ جو ان کے کفر پر مطلع ہو کر ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے دیکھو حسام الحرمين والصوارم الہندیہ () لہذا د یابنہ بے شک کا فر ہیں اور نرے وہابی جو د یو بندیوں کے کفریات سے ناواقف ہیں ان کی تکفیر خلاف احتیاط ہے پہلے سعودی حکومت کا حکم ظاہر ہو اور وہ یہ کہ بے تحقیق کفر انہیں کافر نہ کہا جائے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۸ ربیع الاول ۱۴۰۷ھ مرکزی دارالافتاء، محله سوداگران، بریلی شریف