وہابیہ سے میل جول کرنے کی وجہ سے کسی کو وہابی کہنے کا شرعی حکم
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسائل ذیل میں کہ زید بذات خودسنی اور مسلک اعلیٰ حضرت کا ماننے والا ہے ۔ مگر تجارت پیشہ ہونے کی وجہ سے کافروں اور دیو بندیوں سے بولتا ، اٹھتا بیٹھتا ، کھاتا پیتا رہتا ہے حالانکہ زیدان کا جھوٹا نہیں کھاتا بکر کہتا ہے زید مذکورہ فعل کی بنا پر وہابی ہے اس وجہ سے بکر زید سے قطع تعلق رکھتا ہے۔ زید و بکر دونوں کے لیے شرعاً کیا حکم ہے؟
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: فی الواقع زید جبکہ سنی صیح العقیدہ ہے اور اس میں کوئی بات منافی سنیت نہیں تو زید کو محض اس میل جول کی بنا پر وہابی کہنا حرام ہے۔ بکر پر تو بہ لازم ہے اور زید وہابیہ سے میل جول ترک کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۲ · صفحہ ۱۵۶
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
ضروریات دین کا منکر کا فرومرتد ہے!
باب: کتاب العقائد
دیوبندیوں پر علماے حرمین شریفین کے کفر کا فتوی اور وہابیوں کا حکم
باب: کتاب العقائد
دیوبندیوں کو مسلمان جاننے والے کو صدر بنانا گناہ ہے!
باب: کتاب العقائد
علمائے دیوبند کے عقائد کو ماننے والے کا حکم اور اسے سید کہنے کی ممانعت
باب: کتاب العقائد
وہابیوں کے ساتھ میل جول اور ان کا کھانا کھانے کا شرعی حکم
باب: کتاب العقائد