علمائے دیوبند کے عقائد کو ماننے والے کا حکم اور اسے سید کہنے کی ممانعت
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: زید کی سیادت عوام میں مشہور ہے تو وہ بھی اپنے کو سید ہی لکھتا ہے نیز اپنا نسب نامہ بھی پیش کرتا ہے لیکن غضب یہ ہے کہ ان کا تعلق علمائے دیو بند سے ہے اور عقیدہ بھی علمائے دیوبند کا سا ہے اس لیے دریافت طلب امر یہ ہے کہ از روئے شرع اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ۔ آیا اس کی مخالفت و اہانت کی جائے یا نہیں۔ نیز اسے از روئے شرع سید مانیں یا نہیں اگر ما نیں تو کیوں اور نہیں تو کیوں؟
الجواب: فی الواقع اگر زید بے قید دیو بندیوں کا عقیدہ کفریہ رکھتا یا دیو بندیوں کے کفریات پر مطلع ہو کر انہیں مسلمان جانتا ہے تو انہیں کی طرح کا فربے دین ہے اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جو د یو بندیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم اور اسے سید نہ کہا جائے کہ بہا اس کی تعظیم ہو گی اور مرتد کی تعظیم حرام ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله