ضروریات دین کا منکر کا فرومرتد ہے!
جناب مفتی اعظم قبلہ و کعبہ علامہ مولانا قاری الحاج محمد اختر رضا خاں صاحب قبلہ دامت برکاتہم العالیہ والقدسیہ جانشین مفتی اعظم ہند ، بریلی شریف ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاته! کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید قربانی کرنے کو اور کسی بھی حلال جانور کے ذبح کرنے کو نا جائز بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ ہم اور تم یعنی سبھی مسلمان گنہگار ہیں اور اپنے کو بہت پہنچا ہوا تصور کرتا ہے اسی تصور میں وہ بعض بعض ولیوں کی شان میں گستاخی بھی کر بیٹھتا ہے اور اگر کوئی کسی بد مذہب دیو بندی وغیرہ کو برا کہے تو کہتا ہے کسی کو برا مت کہو اور اگر اس کو سمجھایا جائے تو کہتا ہے کہ اب تو نئے نئے ملے نئی نئی حدیثیں چل گئی ہیں اور اگر ڈھول تاشے وغیرہ کا ذکر آ جائے تو کہتا ہے اب کہاں سے حرام ہو گئے کیا پہلے مولا نا نہیں تھے کیا پہلے حدیثیں نہیں تھیں ۔ لہذا ایسا شخص تو بہ بھی نہیں کر سکا اگر ایسا شخص بغیر تو بہ کئے مر جائے تو اس کے جنازہ کی نماز و دفن و غسل و کفن میں شرکت دینا مسلمان کو کیسا ہے؟ اور زید نماز بھی پڑھتا ہے، رسول کو بھی مانتا ہے، اپنے گھر فاتحہ بھی لگاتا ہے اور غوث پاک کو بھی مانتا ہے مگر یہ باتیں اپنے پہنچے ہوئے تصور کرنے کی وجہ سے بکتا ہے اور تو پ کو کہو تو تو یہ بھی نہیں کرتا ہے جواب طلب ہے۔ المستفتی محمد شفیق احمد رضوی قادری مصطفوی نوری غفرلہ، موضع بوہت ضلع بریلی شریف
و شخص منکر ضروریات دین ہو کر کافر و مرتد و بیدین ہے۔ اس پر فرض ہے کہ قربانی کو واجب اور ذبیحہ کو حلال اور وہابیہ دیابنہ کو کافر بے دین اور باجوں کو حرام جانے اور تو ہین اولیائے کرام سے اور دیگر معتقدات کفریہ سے سچی توبہ اور تجدید ایمان کرے ورنہ ہر واقف حال مسلم پر اسے چھوڑ دینا فرض اور اس کی تجہیز و تکفین اور نماز جنازہ پڑھنا حرام جبکہ بے تو بہ مرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر ضاخان از هری قادری غفرله قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲ رشعبان المعظم ۱۴۰۲ھ مرکزی دارالافتاء، محله سوداگران، بریلی شریف