وہابیوں کے ساتھ میل جول اور ان کا کھانا کھانے کا شرعی حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے حق و مفتیان شرع متین : میں چار سال مدرسہ اہل سنت فیضان العلوم جوکھن پور میں درس دیتارہا اور مسجد میں امامت بھی کرتا رہا پھر وہاں سے رخصت ہو کر گھر چلا گیا گیارہ ماہ گھر رہ کر کاشت کاری کیا جو کھن پور سے خبر گئی کہ تمہاری جگہ کا انتخاب کیا گیا ہے اگر آنا چاہو تو آجاؤ میں گھر سے روانہ ہو کر جوکھن پور آیا وہاں سے مولوی صغیر احمد رضوی منگا سیٹھ اور کو اور موجودہ امام مولوی ظہور الحسن صاحب اکھیڑ گاؤں سے آئے ہیں میں امکھیڑہ میں رہنے لگا کچھ دنوں کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ اس مسجد میں کچھ لوگ دیوبندی خیالات کے ہیں اور زیادہ تر لوگ اہل سنت و جماعت کے ہیں میرا کھانا دونوں فریقین سے طے پایا تھا اور میں دونوں کے یہاں کھا تا رہا میری تنخواہ اناج طے پایا تھا اس لیے چھہ ماہ پورا ہوتے ہی وہاں سے روانہ ہو گیا لیکن اس درمیان جتنی بھی تقریریں ہوئیں ان میں وہابیت کا رد کرتا رہا اور دل سے برا جانتا رہا جس وقت میں نیور یا آیا تھا اسی وقت میں نے سب واضح کر دیا تھا کہ اکھڑہ سے آرہا ہوں۔ اب تین سال ۵/ ماہ سے نیور یا حسین پور میں محلہ کھا پور کی مسجد میں امامت کرتا ہوں ساڑھے تین سال بعد آج کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ تم وہابی کی مسجد سے آئے ہو تمہارے پیچھے نماز نہیں ہوتی ہے ایسی حالت میں علمائے اہل سنت کا کیا حکم ہے بحوالہ کتب شافی و کافی جواب دیں۔ عین کرم ہوگا! مستفتی: خاکیائے علمائے کرام : عاصی عبد القدوس پیش امام مسجد محلہ کھبا پور، نیور یا حسین پور، پیلی بھیت
الجواب: وہابی کے یہاں کھانا منع تھا صرف سنی کے یہاں کھانا چاہیے تھا وہابی کے یہاں کھانا کھایا اس سے تو بہ لازم ہے اور مقتدیوں کو تو بہ کا اعتبار لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله یکم رمضان المبارک ۱۳۹۷ھ صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی