وہابیہ کی تصانیف اور دیوبندی مطبع کی کتابوں کو پڑھنے کا شرعی حکم
وہابیہ کی مصنفات پڑھنا کیسا ہے؟! بخدمت مخدومی حضرت مفتی اعظم ہند دامت برکاتہم ! السلام علیکم ! بعد قدم بوسی عرض خدمت بابرکت یہ کہ ہم نے سنا تھا کہ دیو بندی وغیرہ کی مطبوعہ کتب نہ پڑھی جائیں لیکن ایک بات کی تحقیق عرض ہے کہ عربیت کی تحریر و تقریر سیکھنے کے لئے کتب خانہ اعلیحضرت“ محله سوداگران بریلی شریف سے عربی بول چال نامی کتاب جناب قاضی عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی کی بھیجی ہوئی کتاب مذکور عربی بول چال مؤلفہ حافظ عبد الرحمن صاحب امرتسری کی آئی ہے اور وہ کسی دیو بندی مطبع کی مطبوعہ ہے از رشید یہ کتب خانہ دھلی کا نام بھی اس پر ہے ایضاً۔ بہشتی زیور کا بھی نام سرورق پر اشتہار ہے اس لئے اس کتاب کو پڑھ کر صرف، نحو، بول چال، تحریر و تقریر سیکھنے کی اجازت ہے یا نہیں ؟ الفرض کتاب مذکورہ بالا کو پڑھ کر فیض حاصل کرنے کی شرعاً اجازت ہے یا نہیں؟
الجواب: آپ نے غلط سنایا آپ کو غلط فہمی ہوئی دیو بندی کی وہ کتابیں جس میں انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم غیب کو شیطان سے کم اور جانوروں ، پاگلوں اور بچوں کے برابر اور حضور کے ختم نبوت کا انکار کیا اور آپ کے بعد یا زمانہ نبوی میں کوئی نبی آنا مخل خاتمیت محمدی نہ مانا دیکھو ” براہین قاطعہ حفظ ،، وو اور بھی اپنی انہیں دیگر کتابوں پر گستاخیاں رسول خدا کی شان میں کیں بلکہ خدا کیلئے کذب کہا کہ وہ جھوٹ بول سکتا ہے وقوع کذب کے معنی درست ہو گئے، دیکھو تو ٹی گنگوہی ان کتابوں کے مطالعہ سے ممانعت ہے اور جو کتابیں صرف ونحو سے متعلق ہیں اور ان کی کفریات سے مبرا ہیں ان میں حرج نہیں ہاں عام آدمی کو ان پر اعتقاد نہ چاہئے اور دیگر کتا بیں بھی کسی سنی عالم کے مشورہ سے منگا ئیں بلکہ سنی کتب خانہ سے منگائیں کہ ان بدعقیدوں سے بلا ضرورت معاملات بھی ناجائز عربی بول چال کا مطالعہ جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله