خود کوسنی صحیح العقیدہ ظاہر کرنے کے لئے طواغیت اربعہ کی تکفیر ضروری!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل سوالات میں کہ: اعظم گڑھ کے ایک پیر صاحب جن کا نام اسرار الحق خاں صاحب ہے اور وہ پیری مریدی کرتے ہیں اور تقریباً سلسلہ عالیہ چشتیہ وسلسلہ عالیہ قادریہ وسلسلہ عالیہ نقشبندیہ وسلسلہ عالیہ مجددیہ وسلسلسہ عالیہ شاذلیہ سے مرید کرتے ہیں، اور مریدین کو پڑھنے کے لئے معمولات کا پرچہ دیتے ہیں جو کہ اس رقعہ کے ساتھ منسلک کر رہا ہوں یہ پوچھے جانے پر کہ آپ کس فرقے سے ہیں ؟ تو موصوف کہتے ہیں بلکہ تحریر بھی دیتے ہیں کہ میرا تعلق نہ دیو بندی سے ہے نہ تبلیغی جماعت سے، نہ وہابی اور نہ جماعت اسلامی یا اور کوئی سیاسی پارٹی سے بلکہ میرا تعلق اور اصول و طریقہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت بڑے دستگیر رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ ، حضرت مجددالف ثانی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ، حضرت ابوالحسن علی شاذلی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ، حضرت بہاء الدین محمد نقشبندی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کے طریقہ پر ہے اور میں ان بزرگان کو اپنا امام ورہبر مانتا ہوں اور اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ ان ہی بزرگان دین کے طریقہ پر زندہ رکھ اور خاتمہ فرما اور ان ہی کے ساتھ حشر ونشر فرما۔ آمین۔ اور کہتے ہیں کہ اگر میر اطریقہ و اصول کلام الہی ، سنت رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم، صحابہ کرام، بزرگان دین رضی اللہ عنہم اجمعین کے اگر ذرا بھی خلاف ہے تو میں ماننے کے لئے تیار ہوں اور میرا طریقہ جو ہے آپ سب کے سامنے ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس کا طریقہ جو معمولات کے پرچہ میں درج ہے، صحیح ہے؟ اور پیر صاحب موصوف کا کہنا کیسا ہے؟ اور پیر صاحب کا عقیدہ کیسا ہے؟ جواب سے جلد نوازیں۔ المستفتی : اقبال احمد صدیقی، پنڈیشور مسجد، پوسٹ پنڈ یشور ضلع بر دوان
الجواب: ان تحریروں سے کچھ ظاہر نہیں ہوتا اور معمولات خلاف شرع نہیں ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۶ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۷ھ صح الجواب ! اس کا یہ کہنا جوسوال میں درج ہوا، کافی نہیں، بلکہ وہابیہ دیابنہ و جملہ بدمذہب فرقوں سے تبری اور ان کے کفر کی تصریح کرے اور حسام الحرمین شریف کی تصدیق کرے ورنہ وہ قول مسئول کے ذریعہ اپنا سنی صحیح العقیدہ ہونا ظاہر نہیں کر سکتا اور اسے سنی نہ سمجھا جائے ۔ اللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی