شریعت کو نہ ماننے والے کے کفر اور اس کے پیچھے نماز کے باطل ہونے کا بیان
گاؤں میں ایک بچے کی میت ہوگئی اور نماز جنازہ پڑھانے والا کوئی نہیں تھا، ایک آدمی جس کا نام حبیب اللہ ہے، وہ نماز پڑھانے کے لائق تھا، جب اس سے کہا گیا تو اس نے نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا اور بغیر نماز جنازہ میت کو دفن کر دیا گیا ، بعد میں گاؤں کے لوگوں نے اس سے کہا کہ یہ تم نے شریعت کے خلاف کام کیا ہے تو حبیب اللہ نے کہا میں شریعت کو نہیں مانتا جبکہ اس کے پیچھے کچھ لوگ نماز بھی پڑھتے ہیں۔ (1) کیا وہ منکر ہوگا؟ (۲) کیا وہ کافر ہوگیا؟ (۳) ان لوگوں کی نمازیں ہوئیں؟ المستفتی: حشمت علی موضع میرا پانی ضلع فتح پور
الجواب: (۱، ۲) بر تقدیر صدق سوال وہ بے شک ان کا منکر ہو گیا، اس پر تو بہ وتجدید ایمان فرض ہے اور شادی شدہ ہو تو تجدید نکاح بھی کرے ورنہ ہر واقف حال مسلم اس کے ساتھ وہی معاملہ کرے جو مرتدین کے ساتھ کرنے کا حکم ہے اور میل جول بند کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) نہیں ، کہ خود اس کی نمازیں صحیح نہیں تو اس کی اقتدا باطل و حرام اور دانستہ اسے امام بنانا کفر انجام ۔واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۱۵ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۷ھ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی