پیشانی پر صندل کا قشقہ (تلک) لگانے اور کفار سے تشبہ کا شرعی حکم
(1) ہندو جو پیشانیوں پر صندل کا قشقہ تلک ٹیکا لگاتے ہیں یہ اُن کا مذہبی شعار ہے یا نہیں؟ اور مسلمانوں کے لئے ایسا کرنے پر شریعت کا کیا حکم ہے؟ اور یہ عمل تشبہ مع الکفار ہے یا نہیں؟ (۲) بزرگان دین کے عرس کے موقع پر مزارات پر صندل چڑھتا ہے تو مزار شریف کے چڑھے ہوئے صندل کا قشقہ تلک مسلمانوں کو لگانا لگوانا جائز ہے یا حرام ہے یا کفر ہے؟ (۳) زید مزار شریف کے چڑھے ہوئے صندل کا قشقہ تلک ٹیکہ لگانا مسلمانوں کو جائز بتاتا ہے تو زید کا قول کیسا ہے؟ اور زید پر شریعت کا کیا حکم ہے؟ اور زید کے پیچھے نماز وغیرہ کی اقتدا کرنی کیسی ہے؟ اور اس سے مسائل شرعیہ دریافت کرنے کیسے ہیں؟ اور زید کے نکاح پر کچھ اثر ہے یا نہیں؟ (۴) یہاں پر ایک مجاور ان پڑھ ہے جو ایک بزرگ کے مزار پر رہتا ہے وہ عرس کے موقع پر مزار کا چڑھا ہوا صندل مسلمانوں مردوزن، بچوں کی پیشانیوں پر قشقہ تلک وغیرہ لگاتا ہے، ایک مولوی سنی نے منع کیا کہ یہ تشبہ بالکفار ہے اور جگہ پر لگا لیا جائے، پیشانیوں پر لگا نامثل قشقہ کے حرام ہے، مزار شریف کا چڑھا ہوا ہو یا کعبہ کا ہی کیوں نہ ہو، کفار کے قومی شعار سے بھی بچنا چاہئے چہ جائیکہ مذہبی شعار سے۔ پھر بھی نہیں مانا اور برائی پر اُتر آیا، افیون کھانا یا گانجہ پینا ، داڑھی حد شرع سے کم رکھنا تو الگ کی باتیں ہیں، ان سے ہم کو بحث نہیں ہے، تو ایسے مجاور کی صحبت میں بیٹھنا یا اس کو بٹھانا، اس کی تعظیم و تکریم کرنی اور مزار پر برقرار رکھنا شرع کے اعتبار سے کیسا ہے؟ اور ایسے مجاور پر شریعت کا کیا حکم ہے؟ اگر بیوی رکھتا ہو تو ؟ (۵) زید کا قول ہے کہ بریلی میں اعلیٰ حضرت کے عرس پر مزار کے چڑھے ہوئے صندل کا قشقہ تلک لگایا جاتا ہے اور کوئی مولوی منع نہیں کرتا ہے اور کونسی کتاب میں اس کو حرام لکھا ہے؟ تو یہ زید کا قول کیسا ہے؟ (1) کیا ایسا بھی کوئی طریقہ یا مسئلہ ہے کہ ایک عمل مزار سے بغیر نسبت کے حرام ہو اور مزار سے نسبت ہونے سے حلال ہو جائے؟ فقط سائل: رضوی فقیر ناچیز محمد مبین پہاسوی خلیفہ حضور مفتی اعظم ہند مدظلہ العالی وارد حال: مانڈل، گجرات
(۱، ۲) یہ ضرور ان کا مذہبی شعار ہے، مسلمان کو قشقہ لگانا حرام بد کام بدانجام بلکہ کفر ہے کہ یہ کفار سے پوری مشابہت ہے، حدیث میں ہے: ''من تشبه بقوم فهو منهم (1)'' معین الحکام میں ہے: ''لو شد الزنار على وسطه و دخل دار الحرب قال القاضی ابو جعفر الاسروشنی: ان فعل لتخليص الاسارى لا يكفر ولو دخل للتجارة يكفر (٢)'' (۳) زید بے قید پر تو بہ و تجدید ایمان و تجدید نکاح لازم ہے، اسے امام بنانا حرام اشد حرام اور اسے مقتدائے دین ، عالم شرع سمجھنا کفر اور اس سے مسائل پوچھنا حرام ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) حرام اشد حرام بد کام بد انجام اور اس کی بیوی اس کے نکاح سے باہر ، درمختار میں ہے: ''ارتداداحدهما فسخ عاجل ‘‘ (۳)۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) زید کا قول افتراء ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی (۱) جامع الصغير مع فيض القدير، باب حرف المیم، ج ۲، ص ۱۳۵ ، دار الكتب العلمية، بيروت (۲) معين الحكام، فيما يتردد بين الخصمين من الاحكام الباب الخمسون في القضا بكلمات الكفر ص ٢٠٣، المطبعة الميمنة مصر (۳) الدر المختار ، باب نکاح ،الکافر، ج ۴، ص ۳۶۶، دار الكتب العلمية، بيروت