شریعت سے آزاد اور وہابیوں کے پیچھے نماز جائز کہنے والے شخص کی پیری و مریدی کا حکم
نماز کی پابندی بھی نہیں کرتے ، کہتے ہیں ”میں فقیر ہوں“۔ گانے بھی سنتے ہیں، صفائی مانگنے پر کہتے ہیں کہ میں نے اس کی اجازت اپنے پیر سے حاصل کر لی ہے۔ وہابیوں کی تقلید میں نماز پڑھنے کو جائز بھی کہتے ہیں۔ ایسے شخص کے بارے میں شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ واضح ہو کہ یہ بیعت بھی کرتے ہیں۔ تو کیا شخص کے ہاتھ پر بیعت ہونا جائز ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں مفصل و مدلل جواب عنایت فرمائیں۔ آپ کی بڑی مہربانی ہوگی! سوال کننده : عوام اہل سنت جنار، پونہ (مہاراشٹر )
الجواب: وہ شخص شریعت سے بالکل آزاد ہے، مستحق عذاب نار ہے،شریعت کے احکام کی پرواہ نہیں کرتا۔ اور وہابیوں کے پیچھے نماز پڑھنے کو جائز بتاتا ہے تو وہابی نواز بھی ہے اور یہ اس کا عقیدہ سنیت کے خلاف ہے۔ اس عقیدے کے بناء پر وہ سنی نہیں ہے۔ وہابیہ دیابنہ مرتد بے دین کا فربد تر از کافر اصلی ہیں، ان کے پیچھے نماز پڑھنا، اپنی نماز کو برباد کرنا ہے، بلکہ ایمان کو غارت کرنا ہے کیونکہ وہابیہ پر علمائے حرمین شریفین و ہند و پاک نے بیک زبان کفر کا حکم دے کر فرمایا: من شک فی کفره وعذابه فقد کفر (۱) اور بیعت کی صحت کے لئے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ سنی ہو ۔ اس کی اپنی بیعت اگر وہ کسی سے بیعت ہے تو صحیح نہیں ، چہ جائیکہ وہ لائق پیری ہو۔ اس سے مرید ہو نا جائز نہیں۔ اللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله (1) حسام الحرمين على منحر الكفر والمين مع الترجمة، ص ۹۰ ، رضا اکیڈمی (اشاعت ۱۴۳۵ھ)