داڑھی کی توہین کرنے والے پر توبہ، تجدید ایمان اور تجدید نکاح کا شرعی حکم
یا مرشدی مولائی پیر و مرشد ! السلام علیکم بعد سلام کے نہایت ادب و آداب کے ساتھ عرض ہے کہ ہمارے یہاں ایک شخص عبد اللطیف ولد خواجہ بخش عرف دنیا بھایا نے ابھی کچھ دن پہلے چھپرا میں کسی کے چہلم کی تقریب میں شرکت کی تھی، اس جگہ چند آدمی اور بھی موجود تھے ، موجودہ آدمیوں کے نام یہ ہیں: بھورے خاں ۔ مظفر ۔ عبد القیوم صاحب۔ محمد شفیع صاحب اور دیگر دس پندرہ آدمی تھے، ان سب کے رو بر وعبد اللطیف نے داڑھی والوں کی شان میں سور کہا، اور یہ بھی کہا کہ اگر کسی داڑھی والے کو کاٹا جائے تو اس کے خون کے ہر قطرے سے ایک سو ر پیدا ہوتا ہے اور خون کے ہر ہر قطرے سے سو رسو ر پیدا ہوں گے، داڑھی والے سب کے سب سو رہوتے ہیں ، جبکہ عبد اللطیف کے والد خواجہ بخش صاحب کے بیٹے اور بھائی کی بھی داڑھی تھی ، ایسے آدمی کے لئے قرآن کے فرمان سے کیا حکم ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ایسے آدمی کے لئے ؟ از روئے شرع جواب سے آگاہ کریں۔ امستفتی: عبدالرشید کیر آف عبدالحمید پان والا
الجواب: بر تقدیر صدق سوال اس شخص نے بلا شبہ داڑھی جو سنت رسول اکرم علیہ الصلوۃ والسلام ہے، کی توہین کی ہے، اس پر تو بہ و تجدید ایمان لازم ہے اور تجدید نکاح بھی کرے اگر بیوی والا ہو ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۱۹/ ذوالحجہ ۱۳۹۸ھ