شمشان گھاٹ جانے اور 'ملا کی ماری حلال ہے' کہنے والے پر تجدید نکاح کا حکم
(1) کیا فرماتے ہیں علمائے دین جبکہ زید بے سوچے سمجھے ہند ومردے کے ساتھ شمشان چلا گیالیکن اس کے بعد جب اس کو یہ علم ہوا کہ میرے اوپر تو بہ لازم ہے تو زید نے فورا ہی تو بہ حضرت کے دفتر میں ہی تین اشخاص کی موجودگی میں کر لی۔ (۲) یہ کہ زید نے کسی بات پر اپنے خسر صاحب سے یہ کہا کہ ملا کی ماری حلال ہے تو ان الفاظوں پر زید کی بیوی نکاح سے باہر ہو جاتی ہے ایسا سنا گیا ہے ایسی حالت میں عرض مدعا یہ ہے کہ زید کی بیوی نکاح سے باہر حقیقت میں ہوئی یا نہیں؟ اور اگر ہوئی تو کیا زید کی بیوی اپنا دوسرا نکاح کر سکتی ہے یا نہیں۔ (۳) زید اپنی بیوی کو چھوڑنا نہیں چاہتا اور اپنی غلطی پر خود نادم ہے ۔لہذا جواب جلد از جلد روانہ فرمائیں۔ عین نوازش ہوگی۔ لمستفتی : کوثر میاں محلہ جسولی مسجد اخون زاده ذخیره بریلی شریف
الجواب: (۱، ۲، ۳) زید پر تجدید نکاح کا حکم بسبب ان الفاظ کے ہوا اور اپنی عورت کو نکاح جدید بمہر جدید سے رکھ سکتا ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرلہ ۲۷ رذی الحجہ ۱۳۹۶ھ