کافر کے لئے دعائے مغفرت کرنے والے، راکھی بندھوانے اور تلک لگوانے والے کی امامت کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مندرجہ ذیل مسئلوں پر کہ: (1) امام، قاضی ، مفتی یا عالم کسی غیر مسلم کی میت پر شمشان گھاٹ پر اس کی مغفرت کے لئے آیات قرآنی پڑھے، اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟ (۲) امام، قاضی یا عالم غیر مسلم کے تیوہار منائے، مثلاً راکھی بندھوائے ، تلک لگوائے ، اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟ (۳) امام، قاضی، ہمفتی یا عالم کی عورت غیر مسلم لباس پہن کر بازار میں بے پردہ گھومے،اس کے پیچھے نماز ہوسکتی ہے یا نہیں؟ المستفتی نجم الدین رضوی ، معرفت معین الدین رضوی ۹۳ / سر سامل با پا نامارگ ۷۹ رصدر بازار، مین روڈ ، اندور مدھیہ پردیش /سر
الجواب: (1) کافر کے لئے دعائے مغفرت حرام، کفر و تکذیب خبر الہی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ - الآية (1) اللہ تعالیٰ کفر کو معاف نہیں فرماتا ہے۔ تو کافر کی مغفرت چاہنا اس آیت کریمہ کو جھٹلانا ہے اسی لئے علماء نے اسے کفر فرمایا۔ رد المحتار میں ہے: الدعاء بالمغفرة للكافر كفر (۲) اس شخص پر تو بہ فرض ہے اور تجدید ایمان بھی کرلے اور بیوی رکھتا ہوتو تجدید نکاح بھی کرے۔ اسی در مختار میں ہے: مايكون كفرا اتفاقا يبطل العمل والنكاح واولاده اولادزنا وما فيه خلاف يؤمر بالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح (۳) جب تک وہ تو بہ صحیحہ نہ کر لے اسے امام بنا نا حرام ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) ایسے شخص پر تو بہ و تجدید ایمان فرض ہے اور بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے کہ اس کے یہ افعال کفری ہیں۔ ہدیۃ المہتدین میں ہے: "موافقة الكفار في اقوالهم وافعالهم وايامهم الخاصة كفر (٢) اور اس کی اقتدا نا جائز ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) اگر حتی المقدور منع کرتا ہے تو وہ ملزم نہیں ورنہ سخت دیوث مستحق لعنت ہے اور اس کی اقتدا مکروہ تحریمی اور نماز اس کے پیچھے واجب الاعادہ ہے بشرطیکہ اس کی رضا شرعاً ثابت ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۳ / رمضان المبارک ۱۴۰۲ھ