گوتریج کرنے والوں کے احکام، ذبیحہ، نماز جنازہ، اور سماجی تعلقات کا بیان
(۷) گوتریج کا کھانا از روئے شریعت کیسا ہے؟ (۸) گوتریج کرنے والا قصائی ہے اس کے ہاتھ کا ذبیحہ عام مسلمانوں کو حلال ہے یا حرام؟ (۹) (1) گوتریج کا کھانا نیاز سمجھ کر کیسا ہے؟ (۱۰) گوتریج کرنے والے کے ہاتھ کا ذبیحہ کھانے والے امام کے لئے شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ اس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں؟ (۱۱) گوتریج کرنے والے اگر اس فعل سے باز نہ آئیں تو ان سے گوشت خریدنا، نشست و برخاست، میل جول، رواداری رکھنا از روئے شریعت کیسا ہے؟ (۱۲) گوتریج کرنے والوں میں سے اگر کوئی مرجائے تو اس کے جنازہ کی نماز پڑھنا یا پڑھانا کیسا ہے؟ نماز جنازہ پڑھی جائے گی یا نہیں؟ (۱۳) گوتریج کرنے والوں سے تمام مسلمانوں کا سا معاملہ کرنا کیسا ہے؟ (۱۴) اگر کسی نے جانتے ہوئے ان کی نماز جنازہ پڑھی یا پڑھائی یا ان کے ایصال ثواب کی مجلس پڑھی یا مجلس میں شرکت کی تو کیا حکم ہے؟ (۱۵) اگر گوتریج کرنے والے تو بہ کرناچاہیں تو کس طرح سے کریں ؟ علی الاعلان کریں یا محض مخفی طور پر ۔ (۱۶) نیز تجدید ایمان کے بعد تجدید نکاح بھی کرنا ہوگا یا نہیں؟ (۱۷) گوتریج کی وجہ سے تمام مسلمانوں کو دعوت میں گوشت کھانا چاہئے یا اجتناب کرنا چاہئے؟ بینواتوجروا المستفنى : محمد علی حاجی اسماعیل نور تھر روڈ، پور بندر گجرات ۱/۲۳ پریل ۱۹۷۷ء بروز سنیچر
الجواب: (۱) بر تقدیر صدق سوال اگر وہ فی نفس الامر ایسے ہیں جیسا کہ تحریر ہوا تو خارج از اسلام ہیں ۔ تو بہ و تجدید ایمان و تجدید نکاح لازم ہے مگر ایک فاسق کی خبر سے اس امر کا ثبوت نہ ہوگا۔ قال تعالیٰ: يأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَيَا فَتَبَيَّنُوا - الآية )) (1) سورة الحجرات : 4 (۲) ہاں جماعت کثیرہ جن کا جھوٹ پر متفق ہونا عادت میں محال ہو ان کی خبر معتبر ہے کہ خبر متواتر ہے اور ایسی خبر عدول و غیر عدول سب کی معتبر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) اس کا اقرار جبکہ اس کی تصدیق و تائید دوسروں سے نہ ہو۔ دوسروں پر حجت نہ ہوگا اسی پر حجت ہوگا ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) اعتبار کیا جائے گا جبکہ دعوی مذکورہ کے منافی کوئی امر ردت پر دال ان سے صادر نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ اعلم (۵) بر تقدیر اول حرام ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷،۶) خاندانی دیوی کا ماننے والا مرتد ، اور مرتد کا ذبیحہ حرام ہے۔ اور اس کا کھانا حرام ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۸) حرام ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۹) جبکہ وہ دیوی کے نام پر ذبح کیا گیا تو مردار ہے جس کا کھانا حرام ، اور اسے نیاز سمجھنا بھی حرام ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۰) اشد گنہگار ہے اسے امام بنانا گناہ اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے۔ کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب ہے۔ غنیہ میں ہے: در مختار میں ہے: لوقدموافاسقاياثمون“(۱) كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها “(۲)۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۱) ناجائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۲) حرام ہے۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم (۱۳) حرام ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۴) توبه وتجدید ایمان کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ اور بیوی والا ہوتو تجدید نکاح بھی۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۵) علی الاعلان ۔ حدیث میں ہے: توبة:السر بالسر والعلانية بالعلانية) واللہ تعالی اعلم (۱۶) تجدید ایمان کے بعد تجدید نکاح بھی ضروری ہے، اور نکاح میں گواہ ہونا شرط ہے۔ درمختار میں ہے: شرط حضور شاهدین - الخ (۲)۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۷) اس گوشت سے احتراز لازم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صبح الجواب واللہ تعالی اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ور جمادی الاخری ، ۱۳۹۷ھ (1) كنز العمال، كتاب المواعظ والرقائق ، ج ۱۵، ص ۳۴۸ حدیث (۴۳۲۷۶، دار الكتب العلمية، بيروت (۲) الدر المختار، کتاب النکاح، ج ۴، ص ۸۷ ، دار الكتب العلمية، بيروت