علامہ جامی کے شعر نسیما جانب بطحا گذر کن پر کفر کا حکم لگانے کا مسئلہ
علامہ جامی کے ایک شعر کا مطلب! نسیما جانب بطحا گذر کن - ز احوالم محمد را خبر کن اس شعر کے اندر کون لفظ کفر ہے؟ زید کہتا ہے کہ اس شعر کے اندر کفر ہے۔ حامد اس سے بالکل انکار کرتا ہے کہ کفر نہیں ہے۔ آیا اس طریقے سے شعر لکھنے میں کفر ہے یا نہیں ؟ اگر کفر ہے تو حامد پر کیا حکم عائد ہوتا ہے؟ اور اگر کفر نہیں تو زید پر شرعی حکم کیا ہے؟ ممتاز علی خاں، محلہ ڈیبہ پور ضلع کھیری
الجواب: شعر مذکور میں حرج نہیں ہے اور یہ شعر حضرت عارف باللہ جامی قدس سرہ السامی کا ہے جو اسے کفر بتا تا ہے وہ اولیائے شریعت مطہرہ پر بہت جری ہے۔ اس سے وجہ کفر پوچھی جائے اور اس کے عقائد کی تحقیق کی جائے کہیں وہابی دیو بندی تو نہیں؟ بعد تحقیق وہابیت اسکی صحبت سے شدید احتراز کیا جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب والمولیٰ تعالیٰ اعلم ۱۸ / رمضان المبارک ۱۳۹۸ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی