زید کا دباؤ میں آکر جمعہ کی فرضیت کے انکار کا اقرار کرنے اور اس کے نکاح و ایمان پر اثرات کا بیان
بنا پر وہ اکثر زید کوٹنگ کرتی تھی مگر زید اسے چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوا، ایک بار نماز جمعہ کے وقت اس نے زید سے گھر چھوڑنے کو کہا تو زید نے انکار کیا اس پر وہ بار بار پوچھنے لگی کہ کیا نماز جمعہ پڑھنے نہیں جاؤ گے تو زید کچھ نہ بولا تو اس نے زید کا تہبند مضبوطی سے تھام لیا کہ بتا ؤ جمعہ پڑھنے نہیں جاؤ گے؟ زید نے اس کے اصرار سے مجبور ہو کر کہا کہ نہیں، تو اس نے زید کا کپڑا چھوڑ دیا، زید سو گیا اپنی سستی وغفلت کی وجہ سے نماز کو ادا نہیں کیا اس واقعہ کے چند روز بعد زید کے سسرال والوں نے اس سے کہا کہ جمعہ پڑھنے سے تم نے انکار کیوں کیا ؟ زید نے کوئی جواب نہیں دیا اور واپس آنے لگا تو سسرال والوں نے اسے زبر دستی روک لیا اور کہا کہ جب تک تم اس کا جواب نہ دو گے ہم لوگ نہیں جانے دیں گے اور کہا کہ تم نے جو جمعہ نہ پڑھنے کو کہا اس کا مطلب یہی نہ تھا کہ تمہیں جمعہ کی فرضیت سے انکار ہے؟ زید کچھ نہ بول مگر وہ لوگ مسلسل اصرار کرتے رہے تو زید کی زبان سے نکل گیا کہ ہاں۔ زید کہتا ہے کہ میں نے فرضیت سے انکار کا مطلب سمجھا ہی نہیں جبکہ میں نے اپنی بیوی سے جمعہ نہ پڑھنے کو جو کہا تھا اس کی وجہ بیوی کی بدتمیزی پر خصہ تھا اور اپنی غفلت تھی ، اب سوال یہ ہے کہ کیا زید کی بیوی اس کے نکاح سے نکل گئی اور وہ لوگ اس کو یہ اقرار کرنے پر مجبور کر رہے تھے کہ تمہیں جمعہ کی فرضیت سے انکار تھا کیا وہ لوگ اس ناواقف شخص کو کفر بکوانے پر اصرار کرنے کی وجہ سے مسلمان رہ گئے؟ اسی طرح زید کی بیوی جو زید سے چھٹکارا لینے کے لئے کوئی غیر شرعی بات اس سے بلوانا چاہتی تھی وہ گنہگار نہ ہوئی ؟ اگر وہ زید کے نکاح سے نکل گئی تو وہ نفقہ وغیرہ کی مستحق ہے؟ براہ کرم ہر گوشہ کا شرعی حکم بیان فرما کر عند اللہ ماجور ہوں ۔
الجواب: المستفتی: ساجد علی اعظمی ، گھوی ، اعظم گڑھ از شارح بخاری مفتی شریف الحق صاحب (علیہ الرحمہ ) کیا تمہیں جمعہ کی فرضیت سے انکار ہے؟ یہ پیچیدہ اور مغلق جملہ نہیں کہ زید اس کو نہ سمجھ سکا ہو، پھر یہ کہ اگر وہ اس کا معنی نہیں سمجھا تھا تو پہلے اس نے کوئی جواب کیوں نہیں دیا ؟ خاموش کیوں رہا؟ اگر اس نے اس کا معنی نہیں سمجھا تھا تو اس کو صاف یہ کہنا چاہیے تھا کہ میں نے اس کا مطلب نہیں سمجھا۔ یہ نہ کہنا، اور پہلے خاموش رہنا پھر مسلسل سوال کے بعد ہاں کہنا بتا رہا ہے کہ زید نے اس کا معنی سمجھا اور سمجھنے کے بعد اس نے ہاں کہا۔ حکم شرع ظاہر پر ہوتا ہے اس لئے حکم یہی ہوگا کہ جمعہ کی فرضیت سے انکار کرنے کی وجہ سے زید کا فر ہو گیا اور اس کی زوجہ اس کے نکاح سے نکل گئی۔ فسخ نکاح کے بعد وہ پورے مہر اور جہیز کے کل سامان کی مستحق ہے، اب جب نکاح فسخ ہو گیا تو نان و نفقہ کی مستحق نہیں۔ البتہ اگر ناشنز نہیں تو عدت کے خرچہ کی مستحق ہے، اگر عدت پوری نہ ہوئی۔ طلاق البغض المباحات ہے جو عورت بلا کسی وجہ کے اپنے شوہر سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کرے وہ اچھی عورت نہیں۔ لیکن بلا وجہ بھی طلاق حاصل کرنے کی کوشش یا وہ طلاق حاصل کر لینا حرام و گناہ نہیں۔ نا پسندیدہ ضرور ہے۔ زید کی عورت نے جب زید سے کہا، کیا جمعہ پڑھنے نہیں جاؤ گے؟ اس پر زید نے کہا نہیں، اس میں دو پہلو ہیں ۔ (1) میں جمعہ کو فرض نہیں مانتا، یہ کفر ہے۔ (۲) یہ کہ سنتی اور کاہلی کی وجہ سے نہیں جاؤں گا ایسی صورت میں زید سے سوال ضروری تھا کہ اس کی نیت کیا ہے؟ اور نیت بتانے پر زید کو مجبور کیا جا سکتا ہے بلکہ مجبور کیا جانا ضروری تھا اس لئے زید کی بیوی کے میکہ والوں نے باصرار بلکہ کچھ سختی سے زید کی نیت پوچھی تو ان پر کوئی الزام نہیں ۔ بلکہ یہ کلمہ ان کے لئے ضروری تھا۔ واللہ تعالیٰ اعلم كتبه : شریف الحق خادم الافتاء، الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور ۱۱ رذی قعدہ ۱۴۰۸ھ الجواب: محمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم از مفتی محمد حبیب اللہ صاحب ترک نماز یا پڑھنے سے انکار پنجگانہ ہو یا جمعہ مبارکہ، حرام اشد حرام، گناہ عظیم، موجب عذاب الیم ہے۔ لقولہ تعالیٰ : فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ“ خرابی ہے ان نمازیوں کے لئے جو اپنی نماز سے بھولے بیٹھے ہیں۔ [سورة ماعون : ۴،۵] البتہ ادائے جمعہ سے انکار اگر بوجہ تکاسل ہو تو ہرگز کفر نہیں، لیکن اگر فرضیت سے انکار مقصود ہو تو دو صورتیں ہیں: (۱) ایک کفر قطعی اجماعی کہ جس میں تاویل صحیح کی گنجائش نہ ہو۔ (۲) دوسری کفر غیر قطعی کہ جس میں تاویل کی گنجائش ہو جیسے انکار فرضیت کا سبب امام کا فسق ہو یا شرائط جمعہ کا فقدان ہو یا امور شرائط میں اشتباہ کی بنا پر ہوتو کفر نہیں۔ بعض فقہاء کے نزدیک فرضیت کا علم نہ ہونے کی بنا پر ہو تو بھی کفر نہیں۔ مجمع الانہر شرح ملتقی الا بحر میں ہے: ”من تكلم بها اختياراً جاهلاًبانها كفر ففيه اختلاف والذى تحررانه لا یفتی بتکفیر مسلم مهما امکن حمل كلامه على محمل حسن او کان فی کفره اختلاف ولوروايةً ضعيفةً“ [ مجمع الانهر شرح ملتقى الابحر، كتاب السير والجهاد، باب المرتدج ۲، ص ۳۲۶، دار احیاء التراث العربی، بیروت ] اسی مجمع الانہر میں ہے : اذا كان فى المسئلة وجوه توجب الكفر ووجه واحد يمنعه يميل العالم الى ما يمنع من الكفر ولا ترجح الوجوه على الوجه [ مجمع الانهر شرح ملتقى الابحر كتاب السير والجهاد باب المرتد، ج ۲، ص ۳۲۶، دار احیاء التراث العربی، بیروت ] حضرت صدرالشریعہ رحمۃ اللہ علیہ نے بہار شریعت میں تحریر فرمایا: کہ کسی کلام میں چند معنی بنتے ہیں بعض کفر کی طرف جاتے ہیں، بعض اسلام کی طرف تو اس شخص کی تکفیر نہیں کی جائے گی، ہاں اگر معلوم ہو کہ قائل نے معنی کفر کا ارادہ کیا مثلاوہ خود کہتا ہے کہ میری مراد یہی ہے تو کلام کا حمل ہونا نفع نہ دے گا۔ یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کلام کے کفر ہونے سے قائل کا کافر ہونا ضروری نہیں۔ [ بہار شریعت ، مرتد کا بیان، ج ۲، ج ۹،ص، ۱۶۳، قادری کتاب گھر، بریلی شریف ] کفر قطعی کی صورت یہ ہے کہ فرضیت کا مطلقاً انکار ہو یعنی شرائط وجوب جمعہ و وجوب جماعت موجود ہوں جب بھی اس کو فرض نہ مانے تو قطعا کفر ہے۔ صورت مسئولہ میں زید کے انکار فرضیت جمعہ کی بھی دو صورتیں نکلیں گے۔ کفر قطعی و کفر غیر قطعی ۔ اس لئے کہ سسرال والوں کے پوچھنے پر زید کا نہ بولنا دو حال سے خالی نہیں۔ ایک یا تو انکار فرضیت کا معنی ہی نہیں سمجھا، اس وجہ سے چپ رہا جیسا کہ سوال میں زید کا بیان بھی موجود ہے کہ میں نے انکار فرضیت کا معنی ہی نہیں سمجھا ۔ اور جمعہ کے لئے میرا نہ جانا بیوی کی بدتمیزی اور میری سستی کی وجہ سے تھا۔ دوسرے فرضیت کا معنی سمجھ رہا تھا لیکن مافی نفسہ کے خلاف ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس وجہ سے چپ رہا۔ بہر صورت اگر زید کا انکار فرضیت جمعہ مطلقا ہے تو کفر ہے۔ زید پر تو بہ وتجدید ایمان واجب ہے۔ اس لئے کہ جمعہ فرض قطعی اجماعی ہے جس کا قصداً ترک حرام اشد حرام اور انکار کفر ہے۔ مجمع الانہر شرح ملتقی الا بحر، عالمگیری جلد اول، ، مراقی الفلاح شرح نور الایضاح وغیرہ میں ہے واللفظ للاول : وهي فريضة محكمة لايسع تركها ويكفر جاحدها [ مجمع الانهر في شرح ملتقى الا بحر، باب الجمعة، ج ۱، ص ۲۰۷ ، دار احیاء التراث العربی، بیروت ] اور بیوی کی مدت کا نفقہ بھی واجب۔ بحر الرائق میں ہے: فان كان هو المرتد فلها نفقة العدة وان رتدت فلا نفقة لها [البحر الرائق، کتاب النکاح، باب نکاح الكافر، ج ۳، ص ۳۷۷، مکتبہ زکریا ] جمعہ کا انکار مطلقا نہیں بلکہ وجوہ مذکورہ میں سے کسی وجہ کا دخل و تصور ہے۔ تو مذکورہ بالا فقہی جزئیہ کی روشنی میں کفر قطعی نہیں کہ بیوی نکاح سے خارج ہو جائے بلکہ بحالہ نکاح زید پر باقی ہے۔ جائز نہیں کہ بغیر طلاق حاصل کئے کسی دوسرے سے نکاح کرے۔ لقولہ تعالیٰ : وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاء - الآية [سورة النساء : ۲۴ ] لیکن فقہاء نے ایسی صورت میں تو بہ وتجدید ایمان کا حکم بر بنائے احتیاط لگایا ہے اس لئے احتیاط یہی ہے کہ زید مذکور بھی تو بہ و تجدید نکاح کرے۔ مجمع الانہر شرح ملتقی الا بحر میں ہے: "وما كان في كونه كفرا اختلاف یومر قائله بتجديد النکاح وبالتوبة والرجوع عن ذالك احتياطا [ مجمع الانهر في شرح ملتقى الابحر، كتاب السير والجهاد، باب المرتد، ج ۲، ص ۳۲۵، دار احیاء التراث العربی بیروت ] ہاں البتہ سسرال والوں نے اگر تحقیق حال کے لئے پوچھا تو کوئی مضائقہ نہیں اور اگر زید کی نادانی و جہالت سے کا فر بنانے کی غرض سے پوچھا تو وہاں کفر اسی پر لوٹتا ہے تو بہ وتجدید ایمان و تجدید نکاح واجب ہے۔ لان من حفر لاخيه فقد وقع فیہ ۔ کہ جس نے اپنے بھائی کے لئے کنواں کھودا تو خود اس میں گرا ایسی کوشش کرنا یا تدبیر کرنا یا تدبیر نکالنا یا بحالت اختیار کفر پر راضی رہنا کفر ہے ۔ هذا ما ظهر لی۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ: محمد حبیب اللہ عفی عنہ جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی ، اعظم گڑھ ۱۹ محرم الحرام ۱۴۱۹ھ الجواب: صورت مسئولہ میں سسرال والوں کے اس سوال پر کہ کیا تمہیں جمعہ کی فرضیت سے انکار ہے؟ زید کا ہاں کہنا جمعہ نہ پڑھنے سے زیادہ سخت شنیع و حرام ہے اس پر اس قول سے تو بہ فرض ہے۔ اور احتیاطاً تجدید ایمان و تجدید نکاح بھی کرے کہ اس کا ظاہری مفاد جمعہ کی فرضیت سے انکار ہے اور یہ کفر ہے۔ لہذا پوچھنے والوں کے جواب میں اس کا یہ قول کفر ہوا مگر چونکہ عبارت میں زید کا ایسا قول جوانکار فرضیت جمعہ میں صریح ہو ، موجود نہیں بلکہ یہ قول بحکم السوال معاد فی الجواب دلالۃہ واقتضاء مفہوم ہوا لہذا اگر چه باعتبار دلالت ظاہرہ اس قول کو کفر کہیں مگر زنہار قائل کی تکفیر قطعی کی طرف راہ نہیں بلکہ عیاذ باللہ اگر وہ تصریح کرتا کہ اسے (خدانخواستہ ) جمعہ کے فرض ہونے سے انکار ہے تو جب تک اس کی مراد فرضیت جمعہ کا مطلقاً انکار ہو نا معلوم نہ ہو اسے قطعی کا فرنہیں کہہ سکتے کہ کلام میں احتمال ہے کہ فرضیت کا انکار بوجہ عدم تحقیق شرائط جمعہ یا بوجہ اشتباہ کہ رہا ہو اور جب کلام حتمل ہو تو تکفیرقطعی نہیں ہوسکتی اگر چہ قول کو باعتبار ظاہر کفر کہیں گے اور احتیاطاً تجدید ایمان کا حکم دیں گے۔ در مختار وغیرہ میں ہے: اذا كان فى المسئلة وجوه توجب الكفر وواحد يمنعه فعلى المفتى الميل لما يمنعه ثم لو نيته ذلك فمسلم والا لم يمنعه حمل المفتى على خلافه - اه (۱) اور جب تصریح کا یہ حکم ہے تو ایسی صورت میں زید کی تصریح بھی لفظاً موجود نہیں، محض دلالت ظاہرہ موجود ہے اسے مطلقاً کا فرقرار دینا کیونکر متصور ہے، بالخصوص اس صورت میں کہ وہ صاف بیان دیتا ہے کہ ”میں نے انکار فرضیت کے معنی بھی نہیں سمجھا۔ البتہ باعتبار ظاہر اس کا وہ کلام جو دلالۂ مفہوم و متبادر ہوتا ہے جو ضرور کفری ہے جس کے بابت یہ بھی مشتمل ہے کہ محض بر سبیل خطا سبقت لسانی کے طور پر نکلا ہو، اور اس کا قصد وارادہ نہ ہو اس صورت میں زید کو کافر نہ کہا جائے گا اور یہ بھی محتمل ہے کہ جو اس قول کا کفر ہونا نہ جانتا ہو اس صورت میں بعض علماء کے نزدیک قائل کا فر نہ ہوگا۔ البتہ اگر عیاذ باللہ مذاق کے طور پر کہا یا فرضیت جمعہ کا مطلقاً انکار مقصود تھا اور اب بہانہ جھوٹا کرتا ہے تو قطعی کافر ہے۔ البحر الرائق میں ہے: و الحاصل ان من تكلم بكلمة الكفرهازلاً اولاعباً كفر عند الكل ولا اعتبار باعتقاده كما صرح به قاضيخان في فتاواه ومن تكلم بها مخطئا اور مکرها لا يكفر عند الكل ومن تكلم بها عالما عامدا كفر عند الكل ومن تكلم بها اختيارا جاهلا بانها كفر ففيه اختلاف والذى تحرر انه لا يفتى بتکفیر مسلم امکن حمل کلامه على محمل حسن او کان فی کفره اختلاف ولورواية ضعيفة-اه (۲) اور اس صورت میں اس کے نکاح سے اس کی بیوی باہر ہوگئی ۔ عدت کا نفقہ پائے گی اور جب تک اس کا کفر قطعی معلوم نہ ہوا سے قطعی کا فرنہ کہیں گے مگر احتیاطاً تجدید ایمان و تجدید نکاح کا حکم ہے اور اس صورت میں اس کی بیوی بدستور اس کی بیوی ہے لہذا اسے دوسرے سے نکاح حلال نہیں اور سسرال والوں نے اگر اس سے کفر بکوانے کے مقصد سے دریافت کیا تو ان پر بھی وبال کفر ہے۔ لہذا وہ بھی تو بہ و تجدید ایمان وغیرہ کریں۔ اللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۲ صفر المظفر ۱۴۰۹ھ صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی