کافر کی تعظیم، ہندو کی قدم بوسی اور حرام کو حلال ٹھہرانے کا حکم
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ: ۲۵ نومبر ۱۹۹۲ء زید کہتا ہے کہ ہندو کی قدم بوسی و برائے تعظیم کھڑا ہونا جائز ہے اور زید یہ بھی کہتا ہے کسی بڑے کی تعظیم ضرور کرنا چاہئے وہ کسی قوم کا ہو اور اہل ہنود کے ٹائی پہ کندھا گانا بھی جائز ہے۔
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: محمد الیاس ، قصبہ فرید پور ۹ جون ۱۹۷۶ء شخص مذکور کا دعویٰ باطل محض ہے بلکہ کفر خالص ہے کافر کی ادنی تعظیم بھی کفر ہے چہ جائے کہ قدم بوسی و دست بوسی ۔ درمختار میں ہے: تبجيل الكافر كفر (۲) نیز یہ بھی جو اس نے بکا کہ اہل ہنود کے نانی پہ۔ الخ، حرام کو حلال ٹھہرایا یہ دوسرا کفر ہے تو یہ تجدید ایمان وتجدید نکاح اگر بیوی والا ہولا زم ہے۔ ورنہ مسلمانوں پر ایسے سے قطع تعلق فرض۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۰؍ جمادی الثانی ۱۳۹۶ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۲ · صفحہ ۱۱۷–۱۱۸
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
کافر کی تعظیم کے لیے لفظ حضرت استعمال کرنے کا شرعی حکم
باب: کتاب العقائد
زمین و آسمان کی حرکت اور سکون سے متعلق اسلامی عقیدہ اور سائنسی نظریہ
باب: کتاب العقائد
ہر زمانے میں ایک گروہ ایسا ہو گا جو حق پر قائم ہوگا
باب: کتاب العقائد
کسی بزرگ یا جن کے کسی انسان پر آنے کے عوامی دعووں کی حقیقت اور شرعی حکم
باب: کتاب العقائد
صلح حدیبیہ، بدمذہبوں سے سیاسی مصالحت اور کفار کے سلام کے جواب کے متعلق شرعی تحقیق
باب: کتاب العقائد