کسی بزرگ یا جن کے کسی انسان پر آنے کے عوامی دعووں کی حقیقت اور شرعی حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: یہ جو عوام میں پھیلا ہوا ہے کہ فلاں صاحب یا فلاں بزرگ صاحب اور فلاں جن صاحب اور امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ، فلاں شخص یا فلاں عورت پر آئے اور بڑے بڑے کرشمے بھی دکھائے ، کام بھی انجام کو پہنچائے۔ ایسا ہو سکتا ہے یا نہیں؟ ایسی بات میں مسلمانوں کو کیا کرنا اور سمجھنا چاہیے ؟ بعض جگہ میں نے دیکھا ہے خاص طور سے میں نے بریلی شریف محلہ قلعہ کی سرائے میں ایک بھٹیاری کو دیکھا کہ جس پر دولھا میاں رحمۃ اللہ علیہ حسین باغ والے آتے ہیں اور یہاں اس عورت کے سامنے دسیوں شخص ہوتے ہیں اور اپنے اپنے کام کے بارے میں پوچھتے ہیں وہ صحیح بات بتادیتی ہے اور ان کے سامنے انہیں کی نیاز بھی لگاتے ہیں، کیا ایسا صحیح ہے کہ دولہا میاں آتے ہوں گے؟ اور قرآن شریف کی آیتیں پڑھنے کو کہتے تھے، یا امام حسین رضی اللہ عنہ آتے ہوں گے کیا کوئی بزرگ یا کوئی جن یا اولیائے کرام عورت پر آکر
الجواب: یہ تمام خرافات و اوہام عوام ہیں۔ ان باتوں پر اعتماد جائز نہیں ہے۔حدیث میں ہے: مَنْ أَتَى عَرَّافًا أَوْ كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ [صلى الله عليه وسلم] جو کسی پیشگو یا کاہن کے پاس آئے اور اس کی بتائی ہوئی بات پر یقین کرے تو وہ اس سے کافر ہوا جومحمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اترا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۶ شعبان المعظم ۱۴۰۲ھ