کافر کی تعظیم کے لیے لفظ حضرت استعمال کرنے کا شرعی حکم
سوال
کیا فرماتے ہیں مکرم اور محترم علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ: ایک شخص غیر مسلم کے لئے ادبا حضرت کا لفظ تحریر کرتا ہے۔ ایسا لکھنا درست ہے یا نہیں؟ جواب سے مطلع فرما ئیں ۔ عین نوازش ہوگی ۔ فقط والسلام خاکسار شفیع احمد ، قصبہ پور نپور، محلہ کریم گنج ضلع پیلی بھیت
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: کافر کی تعظیم کفر ہے۔ در مختار میں ہے: تبجيل الكافر كفر (1) جس شخص نے کافر کو اد با حضرت تحریر کیا اس پر تو بہ وتجدید ایمان و تجدید نکاح اگر بیوی والا ہوتو لازم ہے۔ اور تعظیم کی نیت نہ تھی بلکہ خوف و دفع مضرت یا بطور مخادعت اپنے جائز حق کے حصول کے لئے کہا اور حصول حق بلا تملق ممکن نہ تھا تو الزام نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح تحسین رضا خاں غفرلہ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۲ · صفحہ ۱۱۶–۱۱۷
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
ہر زمانے میں ایک گروہ ایسا ہو گا جو حق پر قائم ہوگا
باب: کتاب العقائد
کافر کی تعظیم، ہندو کی قدم بوسی اور حرام کو حلال ٹھہرانے کا حکم
باب: کتاب العقائد
صلح حدیبیہ، بدمذہبوں سے سیاسی مصالحت اور کفار کے سلام کے جواب کے متعلق شرعی تحقیق
باب: کتاب العقائد
زمین و آسمان کی حرکت اور سکون سے متعلق اسلامی عقیدہ اور سائنسی نظریہ
باب: کتاب العقائد
قادیانیوں کو اہل قبلہ قرار دینا کفر ہے اور اہل قبلہ کی شرعی تعریف
باب: کتاب العقائد