صلح حدیبیہ، بدمذہبوں سے سیاسی مصالحت اور کفار کے سلام کے جواب کے متعلق شرعی تحقیق
(۱) کیا اس پر سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا صلح حدیبیہ ہمارے لئے نمونہ عمل نہیں ؟ اگر نہیں تو سیرت نبوی کا کون سا ایسا شعبہ ہے جو ہمارے حال کے مطابق ہمارے لئے نمونہ عمل ہے؟ (۲) اپنی حرمت محفوظ رکھتے ہوئے عقود فاسدہ کے ذریعہ بدمذہبوں سے نفع حاصل کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو سیاسی مصالحت کو مسئلہ مذکورہ پر قیاس کرنے میں کیا حرج ہے؟ (۳) اعلیٰ حضرت امام اہل سنت فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا گیا کہ ”جواب سلام کفار و ہنادک کن الفاظ میں دیا جاوے؟“۔ جواب میں امام اہل سنت رقمطراز ہیں : ” کا فرا گر بے لفظ سلام سلام کرے تو ایسے ہی الفاظ رائجہ جواب میں بس ہیں اور بلفظ سلام ابتدا کرے تو علما فرماتے ہیں جواب میں وعلیک کہے مگر یہ لفظ یہاں مخصوص باہل اسلام ٹھہرا ہوا ہے اور وہ کافر بھی اسے جواب سلام نہ سمجھے گا بلکہ اپنے ساتھ استہزاء خیال کرے گا تو جس لفظ سے مناسب جانے ، جواب دے دے اگر چہ سلام کے جواب میں سلام ہی کہہ کر “ ۔ [ فتاوی رضویہ، ج ۹، ص ۶۵ -۶۶ ] دریافت طلب یہ امر ہے کہ سلام کفار کا جواب دینے میں کیا مصلحت ہے؟ جواب دہی کی یہ اجازت مذہبی ضرورت کی بنا پر ہے یا سیاسی ؟ بینوا تو جروا۔ المستفتی محمد معین الدین رضوی خادم الحدیث دار العلوم شاہ عالم ، احمد آباد (گجرات)
الجواب: صلح حدیبیہ مصلحت شرعیہ اور ضرورت شرعیہ کی بنا پر سرکار ابد قرار علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمائی جن کے عظیم فوائد مرتب ہوئے اور اسلام کو فروغ اور کفر کوعظیم نقصان اسی سے ہوا اور صلح حدیبیہ کے بعض شرائط ایسے تھے جن میں بظاہر کفار کا فائدہ اور ان کی برتری تھی اور مسلمانوں کے لئے ظاہری طور پر ذلت تھی اس لئے اکثر صحابہ کرام کی رائے نہ تھی کہ ایسی صلح کفار سے ہو مگر ان سب نے بمقتضائے ایمان سرکار ابد قرار علیہ الصلاۃ والسلام کے سپرد یہ معاملہ کر دیا اور سرکار علیہ الصلاۃ والسلام کے حکم احکم اور آنحضورعلیہ الصلاۃ والسلام کی مرضی پر اپنے سروں کو خم کر دیا۔ اس طرز کی مصالحت بعد زمانہ نبوت کسی کو جائز نہیں یہ سرکار ابد قرار علیہ الصلاۃ والسلام کی خصوصیت تھی اس لئے کہ سرکا را بد قرار علیہ الصلاۃ والسلام بعطائے الہی غیب پر مطلع تھے اور آپ کو اختیار تشریعی بھی رب قدیر عز وجل سے ملا۔ لہذا آپ کو اختیار ہے کہ جب چاہیں ظاہر پر حکم فرما ئیں اور جب چاہیں باطن کے موافق حکم کریں۔ دوسرا کوئی ان کا سہیم و شریک اس خصوصیت میں نہیں ہوسکتا۔ لہذا کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ سرکا را بد قرار علیہ الصلاۃ والسلام کے خصوصی حکم کو مقیس علیہ ٹھہرا کر کفار نہ صرف کفار بلکہ مرتدین سے جن کا حکم کفار اصلی سے شدید تر ہے، اتحاد وموالات کو جائز کر دے۔ ہر کا فرومرتد سے موالات مطلقاً حرام ہے بلکہ موالات قلبی کفار سے کفر ہے۔ کما فی المحجةالمؤتمنة لسيدنا الجد الامام الأوحد احمدرضا قدس سرہ ۔ ہاں اگر دنیوی معاملات میں ان کی معونت ناگزیر ہوجس کے تحت ضرورت شرعیہ داعی ہو تو بضرورت بقدر ضرورت ان سے نری ظاہری معاملت کی اجازت ہے۔ الضرورات تبيح المحظورات وما ابيح للضرورة يتقدر بقدرها اور مذہبی معاملات میں کفار سے استعانت حرام اور ان سے موالات حرام اشد حرام بدکام کفر انجام مگر بارہا کا تجربہ ہے کہ نام ضرورت شرعیہ کا لیا جاتا ہے اور ضرورت نام کی بھی نہیں ہوتی اور مصلحت بتائی جاتی ہے مگر قوم وملت کو ضرر و مفاسد سے دو چار ہونا پڑتا ہے اور سائل نے خود ہی لکھا کہ جس سے ہمارے مذہبی معاملات مستثنی ہوں“۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ سائل کے نزدیک بھی مذہبی معاملات میں مرتدین سے مصالحت حرام ہے۔ اب سائل فاضل کے کلمات سے خود ظاہر کہ شرعی معاملات کے لئے جو سمیلن ہوا اور ملی جلی نظیمیں بنیں وہ سب حرام بد کام بدانجام ہیں پھر مصالحت کا تو نام لیا جاتا ہے اور مرتدین سے اتحاد کا نعرہ لگایا جاتا ہے۔ کیا مصلحت اور اتحاد کا مفہوم ان لوگوں کے نزدیک ایک ہے؟ اور کیا صلح حدیبیہ کفار سے اتحاد کا نام تھا ؟ اگر نہیں تو اسے مقیس علیہ ٹھہرانا کیا معنی؟ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) قیاس کی کیا حاجت ہے؟ ضرورت شرعیہ اگر داعی ہو تو محرمات مباح ہو جاتے ہیں اس قاعدہ مقررہ عامہ کے تحت جو صورت داخل ہو وہ مباح ہو گی مگر سچی ضرورت ہونا چاہیے نہ کہ ضرورت مزعومہ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) مصلحت عامہ دفع فتنہ ہے اور ہر شخص کی مصلحت اس کے اعتبار سے ہوگی اور شرعاوہ جائز و مقبول ہوگی تو اس کا شرعا اعتبار کیا جائیگا اور ضرورت شرعیہ ہی ضرورت ہے جو شرعی ضرورت نہ ہو وہ ضرورت ہی نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم الجواب صحیح واللہ تعالی اعلم/ ضیاء المصطفیٰ قادری فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۳؍ ربیع الاول ۱۴۰۸ھ الجواب صحیح ۔ واللہ تعالی اعلم احسین رضا خاں غفرلہ صبح الجواب و اللہ تعالی العلم / قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی