راج گدی پر پھول برسانا فعل کافر کی تعظیم ہے اور یہ کفر ہے
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں کہ: (۱) غیر مسلم برادران وطن کے مذہبی جلوسوں میں تہواروں کے موقعوں پر نکالی جانے والی باراتوں نیز راج گدیوں میں اُن کے دیوی دیوتاؤں سے مشابہ روپ بنائے سجے بنے لوگوں پر اہل اسلام کا پھول ڈالنا اور ان کو ہار پہنانا شریعت مطہرہ کی رو سے کیسا ہے؟ اور ایسے فعل کے مرتکب مسلمانوں کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے؟ (۲) محرم کے موقع پر اٹھائے ونکالے جانے والے تختوں و تعزیوں پر بھی اہل اسلام کا ہار پھول ڈالنا کس حد تک مناسب اور شریعت کی نظر میں کیسا فعل ہے؟ برائے کرم صرف مذکورہ باتوں کا اتناہی جواب دینے کی زحمت فرما ئیں جتنی تحریر ہیں : المستفتی : شفاعت ولی خاں عرف شفن خاں کانکرٹولہ، پرانہ شہر، بریلی
الجواب: (1) سخت حرام، بد کام بدانجام بلکه بچند وجوہ کفر حسب تصریحات علماے کرام وحدیث خیر الانام علیہ التحیۃ والثناء والصلاۃ والسلام ہے۔ اولا: یہ عمل کا فر کی تعظیم ہے اور کافر کی تعظیم کفر ۔ در مختار میں ہے: ولو سلم على الذمي تبجيلا يكفر لأن تبجيل الكافر كفر ولو قال لمجوسى يا دوئم : اس موقع پر ان کفار کے گلے میں ہار ڈالنا ان کے اس کفری تہوار کی تحسین و تعظیم پر صریح دلالت ہے اور ان کے کفری معاملات کی نری تحسین ہی کفر ۔ ہندیہ میں ہے: ,, يكفر بتحسين امر الكفار - الخ ،،ملخصا (۲) تو ان کی موافقت فعلی بدرجہ اولیٰ کفر۔ حاشیہ ہدایہ چلی میں ہے: موافقة الكفار فى اقوالهم وافعالهم وايامهم الخاصة بهم كفر (۳) سوئم : یہ فعل کفار سے ان کے مذہبی شعار میں مشابہت ہے اور ان سے ان کے مذہبی شعار میں مشابہت بھی کفر ہے۔ سرکا را بد قرار علیہ التحیۃ والسلام کا فرمان ہے: من تشبه بقوم فهو منهم () جو جس قوم سے مشابہت کرے وہ انہیں میں سے ہے۔ ان لوگوں پر تو بہ لازم ہے اور تجدید ایمان بھی کرلیں اور بیوی رکھنے والوں پر تجدید نکاح بھی لازم ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) یہ بھی ناجائز وحرام بد کام بدانجام ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۵ رصفر المظفر ۱۴۰۶ھ