ایک کفریہ شعر کی تشریح !
کیا فرماتے ہیں مفتیان دین علمائے شرع متین مسائل ذیل میں کہ: شاعر مذہب اسلام کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے: دشمنی ، منکر سے اور اسلام، ناممکن ہے یہ - ہو دل آزاری سے اس کو کام، ناممکن ہے یہ دے جہاں کو موت کا پیغام، ناممکن ہے یہ ہاتھ میں لے تیغ خوں آشام، ناممکن ہے یہ مندرجہ بالا اشعار ایک غیر مسلم کی فکر کا نتیجہ ہیں۔ کیا یہ اشعار شرعی میزان کے مطابق ہو سکتے ہیں اور اُن پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے راضی ہوا جا سکتا ہے واضح ہو کہ مستفتی کے فہم و ادراک کے مطابق شاعر کا خیال ہے کہ اسلام کے منکر یعنی توحید و رسالت کے منکر سے دشمنی رکھنا اور اسلام کا پیرو ہونے کا دعوی کرنا یہ دونوں باتیں یکجا نہیں ہو سکتیں اور ناممکن ہیں ۔ کیونکہ اسلام کسی کی دل آزاری کو منع کرتے ہوئے گناہ قرار دیتا ہے۔ اور اگر شاعر کا خیال صحیح ہے تو پھر دشمنان اسلام سے جنگ وقتال کی کیا اہمیت ہے کیونکہ شاعر اہل اسلام کے ہاتھ میں خوں آشام تلوار ہونا بھی ناممکن بتارہا ہے۔ اگر شاعر کا مقصد مستفتی کے فہم کے خلاف اور اس کے علاوہ ہے تو اصلاح و ہدایت فرمائی جائے۔ دونوں اشعار ایک مذہبی جریدہ میں نشر وشائع ہوئے ہیں اور ناشر ومالک جریدہ خود کو علامہ، مولانا فارغ التحصیل عالم سنی کہتا ہے اور تشہیر کرتا ہے برائے کرم جوابات مفصل سے آگاہ فرمائیں۔ شاعر تو کافر ہے ہی ،مالک و ناشر جریدہ شخص کے لئے حکم و فیصلہ شرعی سے مطلع فرمائیں۔
الجواب: لمستفتی : اخلاق احمد، نوری چک، پرانہ شہر، بریلی غیر مسلم شاعر کے یہ اشعار کفر قطعی ہیں ان اشعار کا حاصل کفر و اسلام، حق و باطل میں اتحاد و دوستی اور نفی جہاد ہے۔ اور یہ سب کھلا کفر منافی اسلام ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۵ صفر المظفر ۱۴۰۸ھ