بیماری کے متعدی ہونے کے باطل عقیدے اور کوڑھی سے احتراز کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید کا جسم بگڑ چکا ہے اور اپنے خاندان کے اندر شامل حال رہتا ہے اگر اس کو دور رکھنے کے لئے کہا جاتا ہے تو اس کے خاندان والے اس کی مدد کرتے ہیں اور اپنے گھر کے اندر بٹھا کر اس کو اپنے ساتھ کھانا کھلاتے ہیں ان سے کہا جاتا ہے کہ اس کا جسم بگڑ چکا ہے اس کو آپ لوگ اپنے آپ سے دور رکھئے تو وہ کہتے ہیں کہ آپ ہمارے خلاف فتویٰ لے آئیے اور ہم اپنے آدمی کو دور نہیں کر سکتے ہیں۔ مولانا محمد جان موضع لٹوریا، بریلی
الجواب: کوڑھی سے احتراز کا حکم اس ضعیف الایمان شخص کو ہے جس کے متعلق یہ اندیشہ ہو کہ اگر اسے کوڑھ ہو جائے (خدانخواستہ) تو وہ اسے علم الہی نہ جانے گا بلکہ اس پر محمول کرے گا کہ اسے یہ مرض اس کے ہم نشیں سے لاحق ہو گیا۔ حالانکہ اسلام میں یہ عقید وباطل ہے کہ کسی کی بیماری کسی کو لگ جاتی ہے۔ حدیث میں ہے: لاعدوی (فی الاسلام) (۱) صورت مسئولہ میں اگر وہ لوگ ضعیف الایمان ہیں کہ ان کے متعلق وہ اندیشہ ہے تو انہیں احتراز کرنا چاہئے ۔ ورنہ انہیں احتراز کا حکم نہیں مگر یہ کہ اس کا کوڑھے لپکتا ہو تو اسے مسجد سے دور رکھیں ۔ اور اس کے ساتھ ایک ہی برتن میں نہ کھائیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح تحسین رضا خاں غفرلہ