کاہن کے پاس جانا اور مندر کی تعمیر کے لیے مالی امداد فراہم کرنے کا حکم
سوکھا سے ملا۔سوکھانے کہا کہ اگر تم ہمارے کہنے کے مطابق ہمارا مطالبہ پورا کرو تو میں تمہارے نقدی و زیورات کا پتہ لگا دوں گا۔ مطالبہ کی فہرست : ایک سوئر اور کچھ روپیہ اور اس کے لوازمات۔ زید نے پورا کیا۔ جب ہم مسلمانان اہل سنت کو اس بات کی خبر ہوئی تو ہم مسلمانان اہل سنت نے زید کے ساتھ کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا، یہاں تک کہ میل ملاپ سب کچھ ترک کر دیا کچھ مدت گزرنے کے بعد زید کو اس بات کا احساس ہوا۔ اور اس نے علمائے کرام کی طرف رجوع کیا اور کہا کہ علمائے کرام جیسا حکم دیں گے ویسا میں کرنے کے لئے تیار ہوں۔ اب اس کے بارے میں شرع کیا حکم دیتی ہے؟ مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں۔ (۲) بکر بغرض کمانے سعودی عرب گیا چند دنوں کے بعد گھر واپس ہوا۔ یہاں آنے کے بعد اس نے اپنی خوشی سے مسجد کے اندر ایک مصلی دیا جب کہ ہندؤوں کی خوشنودی کے لئے اس نے مندر میں مبلغ ستر رو پیه بغرض تعمیر مندر دیا اب ایسے آدمی کے بارے میں شرع کیا حکم دیتی ہے؟ مسلمانان اہل سنت اس کے ساتھ کس قسم کا برتاؤ کریں ؟ جواب مع حوالہ عنایت فرمائیں۔
الجواب: المستفتی: محمد محرم علی قادری صدر مدرس مدرسہ عربیہ اہل سنت مظاہر العلوم کرمها بزرگ، پوسٹ کھلبن خاص، گورکھپور، یونی (1) کاہنوں کے پاس جانا حرام ہے اور ان کی تصدیق بحکم حدیث کفر ہے کہ ارشاد ہوا: من اتى عرافا او كاهنا فصدقه بما يقول فقد كفر بما أنزل على محمد صلى الله عليه وسلم (1) یعنی جو کسی پیشگویا کا ہن کے پاس آکر اس کے کہے کی تصدیق کرے تو وہ اس سے کافر ہو گیا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اترا۔ (1) کنز العمال، كتاب السحر والعين والكهانة ، ج ۲، حدیث ۶۸۰ ، ، ص ۳۱۹، دار الكتب العلمية، بيروت و شخص سخت گنہ گار مستوجب نار ہوا۔ اس پر تو بہ لازم ہے۔ آئندہ مشرکین سے رجوع اور ان کی ایسی خوشامد اور انہیں بے وجہ شرعی کچھ دینے سے پر ہیز کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) وہ شخص سخت گنہگار ہوا تو بہ کرے اور تجدید ایمان وغیرہ بھی کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم ۱۴ / رمضان المبارک ۱۴۰۶ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی