مرتد کی توبہ، دعوی مہدویت اور حالت نزع میں ایمان و توبہ کا حکم
جس کا وہ معتقد ومقر ہے؟ ۔ (۵) اگر کوئی مسلمان مرتد ہو جائے ، قشقہ لگائے، ہندؤوں کے آشرم میں جائے اور آکر کہے میرا حج ہو گیا۔ وہ آشرم مکہ مدینہ ہے اور مہدی ہونے کا دعوی کرے اور یہ بھی کہے ایک وقت کی نماز فجر اللہ کی باقی چار وقت شیطان کی اگر ایسے کو ڈاکٹروں نے کہہ دیا کہ یہ نہیں بچے گا۔ مرنے سے دو تین گھنٹہ پہلے کلمہ پڑھایا گیا استغفار پڑھایا گیا اور ان کفریات کا ذکر نہیں کیا گیا جن کا وہ معتقد تھا تو کیا ایسا شخص مسلمان ہوگا یا نہیں؟ (1) کفر وارتداد دونوں میں اجمالی ایمان معتبر و مقبول ہے یا نہیں؟ (۷) نمبر ٫۵ میں جو باتیں لکھی گئی ہیں ان کا مرتکب مرتد ہے یا کافر اور فرعون کا فر تھا یا مرتد؟ بینوا توجروا
الجواب: (1) نزع کہ خروج روح عن البدن سے عبارت ہے اس کی مدت علم الہی میں ضرور مقر ر ہے۔ ہر شخص کی روح کے نکلنے کے لئے جو وقت خدائے عزوجل نے مقرر فرمایا ہے۔ وہ گزرنا ضرور ہے ۔ مگر کس کو نزع میں کتنا وقت لگے گا ؟ اس کا علم خدا ہی کو ہے اور اس کی عطا سے اس کے نیک بندوں سے جسے چاہے اس کو اس کا علم حاصل ہوتا ہے اور مشاہدہ سے یہ ظاہر ہے کہ کسی کی روح نہایت کم وقت میں بہ غایت آسانی نکل جاتی ہے اور کسی کی روح شدت تمام بڑی دیر میں نکلتی ہے۔ کسی کے ہوش و حواس بفضل الہی آخر تک سلامت رہتے ہیں اور کسی کے بہت پہلے کم ہو جاتے ہیں اور کسی کی جبین پر پسینہ کی بوندیں ٹپکتی ہیں اور کسی کے اوپر کچھ اور کیفیت طاری ہوتی ہے۔ والعیاذ باللہ واللہ تعالی اعلم (۲) نہیں ،حدیث میں ہے: ان الله يقبل توبة العبد مالم يغرغر (۱) اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ قبول فرماتا ہے جب تک اس کا دم گلے میں نہ آجائے۔ یہاں سے ظاہر کہ نزع کا خاص وقت جس میں کفر سے تو بہ قبول نہیں ہوتی وہی ہے جب سینہ میں دم اٹک جائے۔ غالباً اسی وقت حیات سے امید منقطع ہوتی اور موت کا یقین ہو جاتا ہے اور غیب شہادت اور عذاب آنکھوں کی دیکھی چیز ہو جاتا ہے اور کا فرایمان لاتا ہے مگر بے وقت، کہ ایمان بے دیکھے مان لینے کا نام ہے۔ اور عذاب دیکھ کر مجبورا ایمان لایا تو کس کام کا ؟ قال تعالیٰ: كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاتِي وَ قِيْلَ مَنْ رَاقٍ وَ ظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ وَ الْتَفَّتِ السَّاقُ بالشاي إِلَى رَبِّكَ يَوْمَينِهِ الْمَسَاقُه (1) ہاں ہاں جب جان گلے کو پہونچ جائے گی ،لوگ کہیں گے کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرے، اور وہ سمجھ لے گا کہ یہ جدائی کی گھڑی ہے، اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے گی ، اس دن تیرے رب ہی کی طرف ہانکنا ہے۔ وقال تعالیٰ: يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ - الآية (٢) بے دیکھے ایمان لائیں ۔ (۳) وقال تعالى: فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيْمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا - الآية (٣) تو ان کے ایمان نے انھیں کام نہ دیا جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا۔ تحقيق اليأس عن قبول ايمان البأس للشيخ عبد الحق المحدث الدهلوی میں ہے: بدانکه علماء ملت و ائمہ دین و شریعت برانند که ایمان الباس غیر مقبول، باس در لغت بمعنی شدت و عذاب آید و مراد اینجاسکرات موت و معاینه احوال آخرت ست که در وقت حضور موت روی نماید و در بعض اخبار آمده است که هر یک از مومن و کافر در وقت موت جائے خود را می بیند مومن در بهشت و کافر در دوزخ پس چوں کا فردریں حالت ایمان آرد ایس ایمان معتبر نباشد چه ایمان باید که بغیب بود و باختیار بنده و قصد انتثال امر الهی و طاعت و فرمانبرداری وے تعالی باشد و ایمان در میں حالت ایمان بغیب نبود اضطراری باشد ایس ایمان واقرار و اعتراف بحق دراں وقت فائده ندارد و در حدیث آمده که ان الله يقبل توبة العبد ما لم يغرغر، غرغره کنایه است از حالت موت و شدت سکرات و رسیدن جان در حلقوم الخ ملتقطا (۴) بلکہ حقیقتہ نزع اسی دم ہوتا ہے۔ جلالین میں زیر قولہ تعالیٰ : ثُمَّ يَتُوبُونَ مِن قَرِيبٍ “ ہے: ثم يتوبون من زمن قريب قبل ان يغرغروا ) صاوی میں ہے: قوله (قبل ان يغرغروا) أى قبل ان تبلغ الروح الحلقوم (۲) نیز جلالین میں تحت قولہ تعالیٰ : ”حَتَّى إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ“ ہے: وأخذ فى النزع (۳) صاوی میں ہے: قوله (وأخذ فى النزع) أى بلغت الروح الحلقوم وغرغر الميت لأن الانسان عند الغرغرة يرى مقعده في الجنة او في النار فيظهر عليه علامة البشرى أو الحزن فلا ينفعه الندم (۴) اور اس گھڑی آدمی کی آواز بند ہو جاتی ہے تو وہ جی میں ایمان لاتا ہے۔ بنابریں ایمان بأس وہی قرار پائے گا جو بوجہ غرغرہ سنانہ جا سکے اور جو اقرار مسموع ہو حق دنیا میں وہ ایمان باس نہ ہوگا بلکہ ایمان اختیاری قرار پائے گا تاہم میت کا جنتی ہونا علم الہی کے سپرد۔ تفسیرات احمدیہ میں ہے: ما من مؤمن الا ويتوب عند البأس عن المعاصى كما أنه ما من كافر الا يتوب عن الكفر وقت البأس لقوله تعالى وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته وایمان الباس هو الذى لا يكون مسموعا لاحد حتى لو سمع منه في تلك الحالة لا يكون ايمان بأس بل يكون ايمان اختيار ولكن مع هذا لا يثبت كونه من اهل الجنة لأنه تعالى يعلم باطن وظاهره فان وافق بالباطن ظاهره يقبل والا لا “ (۱)۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) کا فراصلی کی پانچ قسمیں ہیں ۔ [۱] دہریہ ( یعنی منکرین خدا) [۲] شنو یہ ۔ ( یعنی مجوس کہ وہ دو خدا مانتے ہیں) دونوں تو حید ورسالت کے منکر ہیں [۳] و ثنیہ ( یعنی بت پرست ) [۴] منکرین رسالت ۔ [۵] مقرین رسالت و منکرین عموم بعثت حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ اول و دوم سوم میں ”لا الہ الا اللہ “ یا ” محمد رسول اللہ “ یا ”آمنت بالله “ یا ”اسلمت “ کہہ دینا کافی ۔ اور منکرین رسالت کو ”محمدرسول اللہ “ کہنا ضرور۔ اور منکرین عموم بعثت کو ”لا الہ اللہ کے ساتھ محمد رسول اللہ کہنا بھی ضرور، اور ہر دین مخالف اسلام سے تبری لازم ۔ در مختار میں ہے : ” لأن الكفار اصناف خمسة من ينكر الصانع كالدهرية، ومن ينكر الوحدانية كالثنوية، ومن يقر بهما لكن ينكر بعثة الرسل كالفلاسفة، ومن ينكر الكل كالوثنية، ومن يقر بالكل لكن ينكر عموم رسالة المصطفى صلى الله عليه وسلم كالعيسوية، فيكتفى في الاولين بقول لا اله الا الله ، وفي الثالث محمد رسول الله، وفي الرابع باحدهما ، وفى الخامس بهما مع التبرى عن كل دين يخالف دين الاسلام بدائع وآخر كراهية الدرر‘“(۲) رد المحتار میں ہے : قوله (كالثنوية) وهم المجوس القائلون بالهين او كالمجوس كما في انفع الوسائل (۳) (1) التفسير الاحمدی، سورة النساء ص ۱۶۵ - ۱۶۴ مکتبه رحیمیه (۲) الدر المختار كتاب الجهاد باب المرتد، دار الكتب العلمية، بيروت (۳) رد المحتار، کتاب الجهاد باب المرتد ، ج ۶، ص ۳۶۲، دار لكتب العلمية، بيروت اسی میں ہے: (( فيكتفى في الاولين) عبارة البدائع فان كان من الصنف الاول او الثاني فقال لا اله الا الله يحكم باسلامه و کذالک اذا قال اشهد أن محمدا رسول الله لانهم يمتنعون عن كل واحدة من كلمتى الشهادة فكان الاتيان بواحدة منها ايتهما كانت دلالة الايمان - اه أى ویلزم من الايمان باحداهما الايمان بالأخرى وهذا صريح في ان الثنوية ينكرون الرسالة فهم كالوثنية فيكتفى فى الكل باحدى الكلمتين و به صرح في انفع الوسائل فقال ان عبدة الأوثان والنيران والمشرك في الربوبية والمنكر للوحدانية كالثنوية اذاقال الواحد منهم لا اله الا الله يحكم باسلامه وكذا لو قال اشهد ان محمدا رسول الله او قال اسلمنا او آمنا بالله - اه ملتقطا )) قلت بهذا نعلم ما في الدر المختار ۔ یہاں سے سوال کا جواب حاصل اور نور العرفان علی خزائن العرفان کی توثیق و تصدیق ظاہر ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) دیو بندی، وہابی ، قادیانی کوئی مرتد محض کلمہ شہادت کے اجراء سے مسلمان قرار نہ پائیگا جب تک کہ اپنے جملہ عقائد کفریہ سے تبری نہ کرلے۔ رد المحتار میں ہے: ثم اعلم انه يؤخذ من مسئلة العيسوى أن من كان كفره بانكار أمر ضرورى كحرمة الخمر مثلا أنه لا بد من تبرئه مما كان يعتقده لأنه كان يقر بالشهادتين معه فلابدمن تبرئه منه كماصرح به الشافعية وهو ظاہر - اه (۲)۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) اس کا جواب ماسبق سے ظاہر۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) یہ بھی ماسبق سے ظاہر ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) کافر و مرتد بے دین منکر ضروریات دین متین اور فرعون کا فر اصلی تھا اور اس کے کفر پر اجماع ہے۔تحقیق الیاس وردالمحتار، وزواجر وغیرہ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۲۷ / ذیقعده ۱۴۰۰ھ الجواب صحیح واللہ تعالیٰ اعلم محسین رضا غفرلہ صبح الجواب و اللہ تعالی اعلم الجواب صحیح مناظر حسین بقلم خود قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی مدرس منتظر اسلام، محله سوداگران، بریلی