لفظ پوجیہ بولنے کا حکم، گواہوں کے بغیر تجدید نکاح کی شرعی حیثیت اور قیادت کی اہلیت
(۱۰) اگر تجدید نکاح کے وقت کسی بھی گواہ کو حاضر نہ رکھا جائے اور صرف میاں بیوی آپس میں تجدید نکاح کر لیں تو ایسی صورت میں نکاح صحیح ہوگا یا نہیں؟ (11) مذکور شخص قوم کا صدر یا سکریٹری بننے کے لائق ہے یا نہیں؟ (۱۲) اگر ایسا شخص قوم کا صدر یا سکریٹری بن گیا ہوتو ایسے شخص کو اس عہدے سے معزول کر دینا لازمی ہے یا نہیں؟ (۱۳) اگر ایسے شخص کو عہدے سے ہٹا دینا ضروری ہو لیکن جماعت کے لوگ اس کو عہدے سے نہ ہٹا ئیں تو جماعت کے لوگ گنہ گار ہوں گے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔ المستفي: يوسف المعيل سریا، میمن وارڈ ، پور بندر، گجرات
الجواب: (۱ تا ۱۳) بلاشبہ پوجیہ کا حقیقی معنی ہی ہے جس کی پوجا کی جائے مگر اظہر یہ ہے کہ یہ لفظ کفار اپنے مابین تعظیماً بولتے ہیں اور یہ بھی کوئی بعید نہیں کہ وہ معنی حقیقی مراد لیتے ہوں کہ وہ تو خسیس سے خسیس ھی کی بھی عبادت کر لیتے ہیں۔ صورت مسئولہ میں اگر قائل نے وہی حقیقی معنی مراد لئے جب تو بلا شبہ مطلقاً کافر مرتد بد دین ہے۔ اس کا نکاح باطل ہو گیا۔ اس پر فرض کہ تو بہ و تجدید ایمان و تجدید نکاح کرے اور تجدید نکاح گواہان عاقل بالغ مسلمان سامعین کے سامنے لازم ہے ورنہ نکاح فاسد ہوگا۔ اور وہ ہے تو بہ و تجدید ایمان وغیرہ کے ہرگز کسی کمیٹی کا صدر نہیں بن سکتا اور صدر بنا ہوا تھا تو اب معزول کرنا لازم ہے اور جو اسے معزول نہ کریں وہ سب اشد گنہ گار ہونگے اور اگر اس نے معنی حقیقی مراد نہ لئے ہوں بلکہ بلاضرورت شرعیہ تعظیما ایسا کہنا بھی کفر ہے کہ کافر کی تعظیم کفر ہے۔ در مختار میں ہے: ” تبجیل الکافر کفر “ (۱) اور اگر یہ لفظ کسی ضرورت شرعیہ کی بنا پر بلا ارادہ معنی حقیقی و بلا قصد تعظیم کہا مثلا اس کا کوئی حق جائز اس پر آتا ہے۔ اور یہ کا فرا سے نہیں دیتا اور یہ اتنی قدرت نہیں رکھتا کہ بلا ظاہری خوشامد کے اپنا حق (1) الدر المختار، کتاب الحظر والاباحة باب الاستبراء، ج ۹، ص ۵۹۲، دار الكتب العلمية، بيروت زندہ کر سکے نہ کوئی مسلم مددگار ایسا رکھتا ہے یا اسے اس سے کوئی خطرہ واندیشہ ہے جس کے دفع پر یہ اپنی قدرت سے یا کسی مسلم معاون کی مدد سے قادر نہیں تو اس پر الزام نہیں۔ مگر ایسا لفظ بولنے سے احتراز کرے۔ دوسرے الفاظ اس سے ہلکے بولے۔واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۴ ؍رجب المرجب ۱۳۹۶ ھ ، مطابق ۱۳ / جولائی ۱۹۷۶ء نعم الجواب وحبذا التحقيق قاضی محمد عبدالرحيم بستوى غفر له القوى