وقت نزع مسلمان سے صادر ہونے والے کلمات کفر کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : زید کہتا ہے کہ وقت نزع کافر کی تو بہ عند اللہ قابل قبول نہیں ہے تو مسلمان کی وقت نزع میں کفر پکنے پر گرفت کیوں نہیں ہے؟۔ لہذا از ید کہتا ہے مسلمان کو بھی وقت نزع کفر کہنے پر کا فرقراردینا چاہئے۔ بکر کہتا ہے کہ وقت نزع اسلام کی سچائی کا فر کے سامنے عیاں ہو جاتی ہے اسلئے وہ اگر تو بہ کر لیتا ہے تو اس کی تو بہ قبول نہیں ہے۔ اسلئے کہ اسلام وہ ہے جسے بن دیکھے قبول کیا جاتا ہے۔ بکر کہتا ہے کہ اگر وقت نزع مسلمان کے منہ سے کفریہ کلمات نکل جاتے ہیں تو اس کی گرفت نہیں ہے کیونکہ وہ موت کی تکلیف سے کفریہ کلمات نکلتے ہیں۔ زید کہتا ہے کہ خاتمہ بالخیر کا کیا مطلب ہے۔امام فخر الدین رازی کو وقت نزع شیطان دھوکہ دے رہا تھا اس حکایت سے کیا مطلب ہے؟ شرع شریف کے حکم سے مطلع فرمائیں۔ زید و بکر کے لئے کیا حکم ہے؟ المستقتی محمد جمال رضا خاں محله سوداگران، بریلی شریف، یوپی
الجواب: بکر صحیح کہتا ہے۔ فی الواقع ہمارے ائمہ اعلام رضوان اللہ علیہم کا مختار معتمد یہی ہے کہ مسلمان سے وقت نزع عياذا باللہ جو کلمات کفریہ بے ساختہ صادر ہو جائیں وہ عند اللہ قابل درگز رہیں اور اس کے ساتھ وہی معاملہ ہوگا جو مسلمان مردوں کے ساتھ ہوتا ہے اس لئے کہ وہ ایسی حالت میں ہے جس میں عام طور پر عقل زائل ہو جاتی ہے۔ اس لئے بعض علما نے قبل موت اس کی عقل کا زائل ہو جانا اختیار فرمایا۔ در مختار میں ہے: "و ما ظهر منه من كلمات كفرية يغتفر في حقه ويعامل معاملة موتى المسلمين حملا على انه في حال زوال عقله ولذا اختار بعضهم زوال عقله قبل موته ذکره الکمال (۱)" اور جب ان کلمات کفریہ کا اس وقت زوال عقل میں اعتبار نہیں تو اس کا خاتمہ شرعا اسلام پر بالخیر ہوگا اور امام فخر الدین رازی سے متعلق جو حکایت مذکور ہے صحیح ہے مگر یہ مذہب معتمد کے منافی نہیں ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۸ رشوال المکرم ۱۴۰۶ھ صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی