اللہ تعالیٰ کی طرف پریشانی منسوب کرنے کے کلمات کا حکم اور اس کا نکاح و طلاق پر اثر
اللہ تعالی نے ہمیں پریشان کر رکھا ہے جملہ کفریہ ہے! علمائے دین و مفتیان شرع متین کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ: زید نے کہا اللہ تعالیٰ نے ہمیں تو پریشان کر رکھا ہے؟ بکر نے زید سے کہا ایسے الفاظ اللہ کے لئے کہنا کفر ہیں۔ زید نے کہا اللہ تعالیٰ نے ہمیں تو پریشان کر ہی رکھا ہے اور کس نے پریشان کیا ہے؟ بکر کہتا ہے کہ زید پر تجدید ایمان و تجدید نکاح ضروری ہے۔ زید کے اوپر شرع کا کیا حکم ہے؟ قرآن اور حدیث کی روشنی میں مفصل بیان فرمائیں۔ زید نے صرف توبہ کر لی تھی۔ زید نے اوپر لکھے جملے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کہنے کے کچھ عرصہ کے بعد اپنی بیوی کو ایک ہی جلسہ میں تین طلاق دے دی ہیں اب زید کو حلالہ کرنا چاہیئے یا بغیر حلالہ کے صرف نکاح کرنا کافی ہے؟ بکر کہتا ہے کہ کفریہ جملے کہنے کے بعد نکاح ٹوٹ جاتا ہے طلاق تو اس عورت کو دی جاتی ہے جو نکاح میں ہو اور کفریہ جملے کہنے کے بعد فوراً نکاح فاسد ہو جاتا ہے اس لئے حلالہ کی ضرورت نہیں ہے۔ شریعت کا کیا حکم ہے؟ المستفتی بمحمد مستقیم الدین رضوی شیخو پور، بدایوں
الجواب: زید کا وہ جملہ بیشک کفریہ ہے جس سے اس پر تجدید ایمان لازم ہے۔ لہذا اس سے تبری و بیزاری کے بعد کلمہ پڑھنا لازم ہے اور تین طلاقیں جو اس نے دیں اس کی بیوی پر واقع ہوگئیں جبکہ کفر بکنے کے بعد اتنی مہلت نہ گزری کہ عدت گزرگئی ہو کہ مرتد کی طلاق عدت میں واقع ہو جاتی ہے جبکہ وہ دارالحرب میں نہ پہنچ گیا ہو۔ در مختار میں ہے: كل فرقة هي فسخ من كل وجه كاسلام وردة مع لحاق وخيار بلوغ وعتق لا يقع الطلاق في عدتها‘(۱) ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله