مسلمان کو بلاوجہ مارنا، گالی دینا اور پنچایت کا ناحق سماجی مقاطعہ کرنے کا حکم
نبی بخش اور اس کے بھائی حسین علی وغیرہ کا آپس میں جھگڑا ہے ۔ حسین علی وغیرہ نے نبی بخش کو کنویں سے آبپاشی کا پانی بند کر رکھا ہے جس پر نبی بخش نے قانونی کاروائی کچہری میں علی حسین وغیرہ کے خلاف کی ہے۔ نبی بخش مذکور جمعہ کے دن بعد نماز جمعہ کر بلا اور مسجد میں شیرینی پر فاتحہ کراتا ہے۔ قریب پندرہ دن سے زیادہ ہوا کہ جمعہ کے دن محلہ کی مسجد میں کچھ لوگ حرام و حلال کی باتیں کر رہے تھے زید دوسری مسجد میں نماز پڑھنے گیا تھا۔ محلہ کی مسجد میں عمر د وغیرہ نے طنز کر کے کچھ باتیں کہیں زید جب دوسری مسجد سے نماز جمعہ پڑھ کر محلہ کی مسجد کے پاس پہونچا تو مسجد کے دروازہ پر عمرو، وغیرہ دوسرے لوگ کھڑے تھے۔ زید کو دیکھ کر عمرو وغیرہ گالی گفتہ دینے لگے اور زید کو پکڑ کر عمر و نے اپنی عورت کی جوتی سے کئی جوتی زید کے سر پر اور جسم پر ماری۔ زید کے بچے بچانے دوڑے تو ان کو بھی عمرو کے گھر والوں نے مارا اور مارڈالنے پر آمادہ تھے۔ تو زید اور اس کے بچے مسجد میں گھس کر پناہ لیے۔ عمرو، وغیرہ نے زید کی شیرینی پر فاتحہ بھی نہیں ہونے دیا ایک گھنٹہ کے بعد جب باہری لوگ آتے ہیں تب زید اور اس کے بیچے مسجد سے نکل پاتے ہیں زید نے پنچایت سے شکایت کی تو پہنچایت نے الٹے ہی زید کا حقہ پانی بند کر دیا ہے اور کاروبار بند کر دیا ہے اور پنچایت کا کہنا ہے کہ پہلے مقدمہ اٹھا لو تب حقہ پانی کھولیں گے زید نے صلح کے لئے بھی پیش کش کیا کہ کربلا میں چل کر ہاتھ ملا لولیکن عمرو وغیرہ تیار نہیں پنچایت نے جو حقہ پانی و کاروبار لین دین بند کیا ہے وہ شرعا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: سوال زید و عمر د وغیرہ ناموں سے کرنا چاہئے۔ اصل نام سے سوال کرنا آداب شرع کے خلاف اور مصلحت کے منافی ہے۔ نام قلمز دکر دیئے گئے۔ مسلمان کو بلا وجہ شرعی مارنا اور گالی دینا سخت حرام بد کام بدانجام ہے۔ حدیث میں ہے: ،، سباب المسلم فسوق وقتاله كفر ) مسلمان کو گالی دینا فسق و بدکام ہے اور اس سے جھگڑا کفر کا کام ہے۔ (1) جامع للترمذی، باب ما جاء سباب المسلم فسوق ، ج ۲، ص ۸۸، مجلس برکات جن لوگوں نے بلا وجہ اسے اور اس کے بچوں کو مارا اور بُرا کہا وہ سخت گناہ گار مستوجب نارحق اللہ وحق العبد میں گرفتار ہوئے اور وہ لوگ بھی سخت مجرم ہیں۔ جنہوں نے بے وجہ اس شخص کا حقہ پانی بند کیا ان سب پر تو بہ فرض ہے اور اس سے معافی بھی چاہیں۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۷ / جمادی الاخری ۱۴۰۶ھ