بے نمازی کی نماز جنازہ کا حکم اور قربانی کے جانور میں شرکت کی شرعی حیثیت
(۱) جنازہ پڑھنا بھی ناجائز ۔ آپ برائے مہربانی قرآن وحدیث سے حوالہ دے کر جواب دیں۔ (۲) ایک خصی کتنے آدمی کے نام قربانی ہو سکتا ہے۔ ایک عالم کہتے ہیں کہ ایک خصی پورے گھر کے ہر فرد کے نام کیا جا سکتا ہے۔ آپ قرآن وحدیث سے اس کا بھی جواب دیں گے۔
الجواب: محمد یاسین مستری سدھیر ور ما دال گلسی ، ضلع بردوان (۱) بے نمازی جو فرضیت نماز کانہ منکر ہو نہ نماز کے ترک کو حلال سمجھے نہ نماز کو ہلکا جانے ہمارے امام اعظم و جما ہیر اہل سنت کے نزدیک مسلمان ہے اور اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔ حدیث میں ہے: ”الصلاة واجبة عليكم على كل مسلم يموت براکان او فاجراوان هو عمل الكبائر ) یعنی تمہارے اوپر ہر مسلم کی نماز جنازہ فرض ہے اگر چہ اس نے کبیرہ گناہ کئے ہوں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) ایک ہی آدمی کی طرف سے اس کی قربانی ہوگی ۔ چند آدمی اس میں شریک نہیں ہو سکتے ۔ جس نے یہ کہا کہ پورے گھر کے ہر فرد - الح غلط کہا اور غلط مسئلہ بتا نا حرام لعنت کا کام ہے۔ حدیث میں ہے: ،، من افتی بغیر علم لعنته ملائكة السماء والارض (۲) جو بے علم فتوی دے اس پر آسمان وزمین کے فرشتے لعنت کرتے ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح واللہ تعالی اعلم تحسین رضاغفرلۂ (1) فيض القدير حرف الجيم، ج ۳، ص ۴۸۲ حدیث نمبر ۳۶۵۳، دار الكتب العلمية، بيروت (۲) جامع الصغير مع فيض القدير ، حرف الميم ج ۶ ، ص ۱۰۱ ، حدیث نمبر ۸۴۹۱، دار الكتب العلمية، بيروت