زید کی توبہ کے بعد بھی اس پر کفر کا حکم لگانے اور سماجی بائیکاٹ سے متعلق سوال
ساتھ واثر کی وجہ سے یا رسول اللہ کہنے والوں کو کافر کہہ دیا۔ معاذ اللہ ۔ بستی کے مسلمانوں وانکی برادری و رشتے داروں نے زید پر دباؤ ڈال کر سمجھا کر تو بہ کرایا۔ ایک بار کئی لوگوں کے سامنے زبانی تو بہ اور ایک بار مولوی نثار احمد صاحب قادری رضوی کٹنی کے سامنے تحریری تو بہ نامہ مرتب کیا اور جماعت کے پاس بھیجا گیا گے۔ جماعت نے زید سے تصدیق چاہی تو زید نے کہا کہ جنہوں نے یہ تو بہ نامہ بھیجا ہے۔ ان سے معلوم کیجئے۔ زید کے قول کے مطابق زید نے ایسا اس لئے کہا کہ شاید جماعت میری بات پر یقین نہ کرے۔ جماعت نے زید کے مذکورہ جواب کا مطلب یہ نکالا کہ زید نے تو بہ کا انکار کر دیا ہے۔ چونکہ زید و جماعت کے پیچ مار پیٹ کے مقدمات بھی زیر غور ہیں زید کے لڑکے کو گولی بھی ماری گئی تھی ۔ اس ماحول کی وجہ سے دونوں گروہ ایک دوسرے سے کافی ناراض ہیں۔ اس بیچ زید کے رشتہ داروں میں شادی کی تاریخ آئی انہوں نے زید کو چھوڑ کر سب کو دعوت دینا چاہی۔ جماعت کی خواہش پر دعوت دینے والے بکر نے زید کے لڑکوں لڑکیوں داماد وغیرہ سے تو بہ کرا کر دعوت دی اور یہ تائید کی کہ وہ فیصلہ ہونے تک زید سے لاتعلق رہیں گے۔ اس کے بعد بکر عمرو کے پاس دعوت دینے گیا۔ عمر و حافظ قرآن و امام بھی ہے۔ اس نے بکر سے کہا کہ تم زید کو کا فر ہوتب تمہاری دعوت لی جائیگی یہ بات عمرو نے دو تین لوگوں کے سامنے کہی بکر نے کہا کہ میں زید کو کافر کیسے کہوں ۔ جب بکر نے کا فرنہیں کہا تو عمرو نے دعوت نہیں لی اور دوسرے لوگوں کو بھی کہا کہ بکر نے زید کو کافر نہیں کہا لہذا تم لوگ بھی دعوت مت لو ۔ جواب طلب بات یہ ہے کہ : (۱) کیا مذکورہ بالا واقعہ کے پیش نظر زید کو کافر کہا جائے؟ (۲) جو حافظ امام بجائے اصلاح کے زید کو کافر کہنے پر ضد کرے اور کافر کہنے میں پس و پیش کرنے کی وجہ سے خود دعوت نہ لے اور دوسروں کو بھی منع کرے ایسے حافظ کے لئے کیا حکم ہے اور اس کی امامت کیسی ہے؟ (۳) جو شخص کسی کفر کی لپیٹ میں آجائے اس کی تو بہ تجدید ایمان وغیر ہ کا حکم تو پڑھا ہے مگر یہ نہیں پڑھا ہے کہ کفر بکنے والا اگر تو بہ کی طرف مائل ہو تو بھی اسے دھکے مارے جائیں اور وہ اپنے کو مسلمان کہے کلمہ پڑھے پھر بھی اسے کافر کہا جائے جیسا حافظ عمر و مذکور نے طریقہ اختیار کیا۔ لہذا حضور حکم فرما ئیں کہ کم علمی ا
الجواب: (۱) بر تقدیر صدق سوال فی الواقع اگر زید تو بہ پر قائم اور دیوبندیوں وغیر ہم بدمذہبوں کے عقائد کفریہ سے بری ہے اور انہیں کا فر جانتا ہے تو اسے مسلمان جاننا لا زم ہے اور اسے زبردستی کافر کہنا کہلوانا حرام کفر انجام ہے۔ جو لوگ زید کو بلا وجہ شرعی کا فر کہہ رہے ہیں تو بہ کریں اور تجدید ایمان بھی اور بیوی والے تجدید نکاح بھی کریں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) حکم گزرا اور امامت اس کی ممنوع ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) بعد تو بہ صحیحہ اسے ضرور شامل جماعت کیا جائے اور اس کی تکفیر سے باز رہا جائے، ورنہ یہ تکفیر کرنے والے خود اپنے مکفر ٹھہریں گے اور زید کے پھرنے کا سبب بن کر مستوجب وبال ہوں گے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله