اسماعیل دہلوی کی تکفیر نہ کرنے اور کبار وہابیہ و دیابنہ کی تکفیر میں فرق کی شرعی وضاحت
اسمعیل دہلوی جس نے اپنی کتاب تقویۃ الایمان کے اندرشان رسالت میں اہانت آمیز کلمات لکھے۔ جس کی بنا پر علامہ فضل حق خیر آبادی اور علامہ فضل رسول بدایونی علیہم الرحمہ نے اسماعیل دہلوی کی تکفیر کی ۔ پھر اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے اس کے بہتر (۷۲) اقوال کفر یہ گنانے کے باوجود اس کی تکفیر نہیں کی۔ ایسا کیوں ؟ اگر اسمعیل دہلوی کے تائب ہو جانے کی غیر تحقیق و غیر متعین خیبر کی بنا پر ہے تو تو بہ کے غیر متحقق ہونے کی وجہ سے اس کا تائب ہو جانا مشکوک ٹھہرا۔ اور اسمعیل دہلوی کا شان رسالت میں گستاخی کرنا متحقق و متعین ہے بایں طور کہ اس کی گستاخی بشکل تحریر موجود ہے۔ اور شریعت کا حکم ہے: الیقین لايزول بالشک اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے غیر متعین تو بہ کی بنا پر اسمعیل دہلوی کی گستاخی جو متعین ہے اس پر حکم کیوں نہیں لگایا اور اس کی تکفیر میں سکوت کو راہ کس بنیاد پر دی؟ پھر یہ کہ جب علامہ فضل حق اور علامہ فضل رسول نے اسمعیل دہلوی کی تکفیر اس کی گستاخی کی بنا پر کی ہے تو اب اسکی تکفیر نہیں کرنے والے ”من شک فی کفره و عذابه فقد کفر “ کی زد میں آئیں گے یا نہیں؟ اگر نہیں تو کیوں؟ اہانت رسول کرنے والے کی تکفیر کرنا ضروریات دین سے ہے۔ پھر یہ کہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے کبار وہابیہ و دیابنہ پر حکم کفر نافذ فرمانے کے بعد جو شخص کبار وہابیہ کے کفر و عذاب میں شک کرے بلکہ شک کرنے والے کے کفر و عذاب میں دیدہ و دانستہ شک و توقف کرے وہ بھی کبار وہابیہ کے زمرہ میں داخل ہو جائے۔ ایسا کیوں ؟ جبکہ اسمعیل دہلوی کی تکفیر نہیں کرنے والے پر بی حکم نافذ نہیں ہوتا؟ المستفتی: محمد اسرائیل رضوی دارالعلوم قادریہ علی پٹی ضلع مہوتری، نیپال
الجواب: اسمعیل دہلوی اور کبرائے دیابنہ کے کلمات میں فرق ظاہر ہے کہ اول الذکر کے کلام میں ظاہر ہے اور مؤخر الذکر کا کلام معنی کفری میں متعین و مفسر ہے اور ظاہر ومفسر میں جو فرق ہے وہ اصول فقہ کے واقفین پر ظاہر و آشکار ہے۔ مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ نے یہ فرق الموت الاحمر‘ میں خوب سمجھا دیا ہے۔ اور کبرائے دیابنہ بعد استفسار بسیار بھی ایسی تاویل نہ بتا سکے جس سے ان کا کفر اٹھ جاتا تو انہیں اسمعیل پر قیاس کرنا غلط ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم اور تحقیق مرام علامہ فضل حق و فضل رسول بدایونی کا فتوی اعلیٰ حضرت پر نہیں لگتا کہ یہ اس کے حق میں ہے جسے کفر پر اطلاع قطعی یقینی ہوگئی کہ اصلا کوئی احتمال ناشی عن الدلیل اور شبہ نہ رہا پھر بھی وہ توقف کرتا ہے تو ایسا شخص ضرور کافر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب! ولا تنسوا الفرق بين اللزوم والالتزام و صریح الفقه و صریح الکلام۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی