اسلام قبول کرانے میں تاخیر درست نہیں !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و شرع متین اس مسئلہ پر کہ: زید کا آنا جانا ہندہ کے گھر تھا اور ہے آنے جانے کے بعد نوبت کھانے پینے کی آئی اور زید کا تعلق گہرا ہو گیا ہندہ نے زید سے فرمائش کی کہ مجھے اپنے مذہب میں شامل کر لو اور مجھ سے شادی کر لو میں خود آپ کے مذہب میں آنا چاہتی ہوں اس لئے آپ کا مذہب حق اور برحق ہے بس یہی بات ہوتے ہوئے ایک دوسرے کو خدا اور رسول کی قسم دلا دی میں تم سے شادی کروں گا اور تمہیں میر امذ ہب قبول کرنے کے بعد اپنے عزیز واقارب کو چھوڑنا پڑے گا اور اگر نہ کروں تو یہ سمجھنا کہ میرے مذہب میں تمہارے لئے جگہ نہیں جبکہ ہندہ کے ماں باپ ہزاروں ستم کر کے تھک ہار چکے تو پھر مجبور ہو گئے اور کہہ دیا کہ جو تمہاری سمجھ میں آئے کرو۔ گھر خالی کرو۔ اب زید پریشان ہے اس لئے پریشان ہے کہ زید کی پہلی زوجہ اور گھر والے کسی طرح راضی نہیں زید کے لئے کیا حکم ہے؟ اگر زید نہیں کرتا تو ہندہ مذہب کا طعنہ دیتی ہے اس لئے زید کا کہنا ہے کہ سب راضی ہو جائیں تو مسلمان بنالوں گا اور شادی کرلوں گا برادری دھمکی دیتی ہے کھانا پینا چھوڑ دیں گے، شادی مت کرو ۔ اس برادری میں جاننے والے بھی ہیں اور نہ جاننے والے بھی ہیں
الجواب: معرفت ہندوستان بک ڈپو مولانا آزا در روڈ ممبئی نمبر ۴۰۰۰۰۸ زید پر لازم تھا کہ خود اسے مسلمان کر لیتا۔ اتنی مدت تک تاخیر کرنے کے معنیٰ یہ ہوئے کہ وہ اس کے اتنی مدت تک کفر پر باقی رہنے سے راضی رہا اور یہ خود کفر ہے۔ زید پر تو بہ و تجدید ایمان و تجدید نکاح فرض ہے۔ بعد اسلام ہندہ زید کو اس سے شادی کرنے کا اختیار ہے بلکہ اس کی تالیف قلب اور ایفاء عہد کے لئے ضرور کرے۔ اور برادری کا منع کرنا بیجا ہے۔ ان پر تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۲ / جمادی الاولی ۱۴۰۲ھ