اندرا گاندھی کو پیغمبر اسلام کا درجہ دینے والے گستاخانہ پوسٹر پر احتجاج اور سد باب کا حکم
میں یہ بات واضح طور پر ہوگی کہ آج مؤرخہ ۲۸ / اگست ۱۹۸۳ء بروز اتوار کی صبح کو میری نظر سے ایک پوسٹر گزرا جو کہ انڈین یونین مسلم لیگ کی طرف سے جاری ہوا تھا۔ وہ پوسٹر مسجد جہان کے صدر دروازہ پر چسپاں تھا۔ جس میں رام سنگھ کی طرف سے ہمارے نبی اکرم احمد مجتبی آقائے دو جہاں سرور کونین رحمتہ اللعالمین خاتم النبیین رسول مقبول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخانہ الفاظ استعمال کئے گئے کہ ملک کی خاتون وزیر محترمہ اندرا گاندھی کو پیغمبر اسلام کا درجہ دیا جائے (نعوذ باللہ ) اس سلسلہ میں آپ اپنی رائے سے فوراً اطلاع کریں کہ مسلمانان ہند کو کیا قدم اٹھانا چاہیئے میں نے اس پوسٹر کی کٹنگ رکھ لی ہے جو میں بتوسل ہائی کمشنر سعودی عربیہ دہلی کے سعودی عرب بھیجنا چاہتا ہوں اور ان سے گزارش کروں گا کہ وہ اس طرف خاص توجہ مرکوز فرما کر ضروری اقدام کریں اب تک ہند کے اندر مسلمانوں تک ہی ظلم اور ستم کا بازار گرم تھا لیکن آج ہمارے اسلام مذہب اور دین وملت کے رہنما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم پر بھی آنچ آنے لگی ہے۔ اگر اسی طرح ہوتا رہا تو آخر میں اس مذہب کا کیا ہوگا۔ برائے مہربانی آپ اس سلسلہ میں اپنی نیک رائے اور نیک خواہشات کے ساتھ مطلع فرمائیے گا جس سے اگلا قدم اٹھایا جاسکے کہ اس سلسلہ میں کیا کرنا چاہئے آپ کی رائے سے اطلاع ملنے پر میں اگلا قدم اٹھاؤں گا۔ المستفتی : رفاقت على محلہ لودھی ٹولہ متصل مسجد جہان مکان نمبر ۴۷، پرانا شہر، بریلی
الجواب: فقیر حج وزیارت کے لئے گیا ہوا تھا۔ آپ کا لفافہ دوران سفر مغل سرائے اسٹیشن پر نظر سے گزرا۔ بے شک وہ کلمات اہانت آمیز ہیں۔ ان پر احتجاج بجا ہے اور اس کا سد باب ضروری ہے ۔ فقط فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۴ رصفر المظفر ۱۴۰۴ھ