شعارِ شرک کے ارتکاب اور اس میں تعاون پر تجدیدِ ایمان و نکاح کا حکم
لہذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ اب ہندہ اور اس معاملے کو جانتے ہوئے پردہ پوشی کرنے والے کا از روئے شرع مطہرہ کیا حکم ہے؟ (الف) کیا ہندہ کے اس فعل کے سبب اس کے ایمان اور نکاح میں فساد ہوا یا نہیں؟ اگر ہاں تو صرف ہندہ پر تجدید ایمان و نکاح واجب ہے یا اس کے فعل میں تعاون کرنے والے اور اس کے چھپانے والے پہ بھی تجدید ایمان و نکاح ضروری ہے۔ (ب) کیا لڑکی کی شادی کر دینے کے بعد اس کے والدین اس حد تک اس سے مستغنی ہو جاتے ہیں کہ اب اگر وہ لڑکی والدین کے گھر میں شرک و بدعت یا کبیرہ کی مرتکب ہو لیکن ان پر کوئی ذمہ داری نہیں درانحالیکہ والدین فعل کے ارتکاب میں مشیر و معاون بھی ہوں؟ برائے کرم کتاب و سنت کی روشنی میں مفصل جواب تحریر فرما ئیں اور جلد از جلد ارسال فرمائیں کیونکہ شاید جواب مسئلہ ہذا کی ضرورت شدید آپ پہ واضح ہوگی۔ جواب مع دستخط و مہر دار الافتا شبت فرما کر ارسال کریں۔
الجواب: صورت مسئولہ میں اس عورت پر تو بہ وتجدید ایمان لازم ہے اور بلا شبہ اس نے شعار شرک کو انجام دیا اور احتیاطا تجدید نکاح بھی کرے گی اور جو اس شعار شرک میں تعاون کے مرتکب ہوئے وہ بھی تو به وتجدید ایمان وغیرہ کریں۔ اور جہاں چھپانا بخوف عار ہو تو محض اس امر سے الزام نہیں۔ البتہ اگر یہ ثابت ہو کہ اس کے فعل پر اطلاع کے باوجود باوصف قدرت اسے منع نہ کیا تو ضرور گناہ گار ہوئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ہر شخص پر فرض ہے اور برائی کا مشورہ اور اس میں تعاون سب پر حرام ہے۔ باپ ہو یا کوئی اور اور والدین اور اقارب میں الاقرب فالا قرب پر یہ حکم زیادہ متاکد ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دارالافتاءمنظر اسلام،سوداگران، بریلی شریف