شمع نیازی، جماعت اسلامی اور وہابیوں کے عقائد اور ان سے سماجی بائیکاٹ کے بارے میں چند سوالات
ہیں روزہ بھی رکھتے ہیں زکوۃ و فطرہ و حج کے بھی قائل ہیں کمال حیرت تو یہ ہے کہ ختنہ ، نکاح، قرآن خوانی، احکام قرآنی، وفرمودات نبی کے معاملہ میں ان کا طرز عمل بھی رہا ہے عام مسلمانوں کا ، سچ تو یہ ہے کہ خطبہ نکاح وہی ہے جو مسلمانوں کا ہے بہر کیف بیان کردہ حقائق کی روشنی میں دریافت طلب امر یہ ہے کہ : (۱) مذکورہ صاحبان اعتقاد عمل کے اعتبار سے مسلمان باقی رہ گئے؟ (۲) مذہبی تمام رشتہ ناطہ ایسے لوگوں سے منقطع کر لینا کیا ہر مسلمان کے لئے ضروری ولازمی ہے؟ (۳) مسجدوں میں ان کو نماز پڑھنے سے روکا جاسکتا ہے؟ (۴) ان کے سلاموں کا جواب ہمیں دینا چاہئے؟ (۵) مسلمانوں کے مکان میں کرایہ دار کی حیثیت سے اگر یہ رہ رہے ہوں تو انھیں نکال دینا ضروری ہوگا ؟ (1) ان کے یہاں نوکری کرنا ان کو اپنے یہاں نوکری دینا ان سے پڑھنا ان کے بچے بچیوں کو اپنے مدرسوں میں دینی تعلیم سے روشناس کرانا کاروباری لین دین الغرض برادری و با ہمی رواداری تمام معاملات میں بلا واسطہ یا بالواسطہ ان سے لگاؤ رکھنے والا انسان کیا مسلمان رہ جائے گا ؟ کہ انہی کے جیسا ہو جائے گا ؟ (۷) یہاں کے مسلمانوں نے شمع نیازیوں کا آپسی بائیکاٹ کر رکھا ہے لیکن مسلمانوں ہی میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو مذکورہ بائیکاٹ کا پورا احترام نہیں کرتے لہذا بائیکاٹ کے سلسلہ میں شمع نیازیوں پر پابندیوں کا لحاظ توڑنے والے مسلمان کیا شمع نیازی ہو گئے؟ اور ایسے مسلمان کا بائیکاٹ بھی باعتبار شریعت ضروری ہے؟ (۸) جماعت اسلامی وغیر مقلد یعنی وہابی حضرات از روئے شریعت مسلمان ہیں ؟ اور ان سے مذہبی ود نیوی تعلقات رکھنا اسلامی نقطہ نظر سے درست ہے؟ نوٹ: یہاں کے مسلمان اس وقت اسی قسم کے اختلافی مسائل سے دو چار ہیں آپس میں جھگڑے تکرار کا بھی احتمال ہے اس لئے ضروری ہو گیا ہے کہ شرعی جانکاری حاصل کی جائے تا کہ باہمی اختلاف کا خاتمہ ہو جائے۔ چنانچہ مرقومہ بالا حالات ہوں تو شرعی حکم کیا ہے؟ مہربانی فرما کر بحوالہ حدیث و آیات قرآن
جواب مزین فرما کرممنون فرمائیں۔ المستفتی: احمد اللہ قریشی متولی مدرسه جماعت القریش ڈاکٹر عبدالنذ یر روڈ کلکتہ ۴۴ الجواب: (1) شمع نیازی کے معتقدات مذکورہ بلا شبہ کفر یہ ہیں کہ ان سے بہت سی ضروریات دین کا کھلا انکار ہوتا ہے اور جب وہ بے ایمان قرآن ہی کے متعلق وہ عقیدہ رکھتا ہے جو سوال میں درج ہے تو اب فرشتوں ، دوزخ ، جنت اور کعبہ کے انکار پر اس سے کیا حیرت ہے جو لوگ یہ عقیدہ کفریہ رکھتے ہیں بلا شبہ کافر و مرتد بے دین ہیں بلکہ وہ بھی جو ان کے عقائد کفریہ پر مطلع ہو کر انھیں مسلمان جانیں بلکہ ان کے کفر و عذاب میں شک کریں انھیں کی طرح کا فر ہیں درمختار میں ہے: وان انکر بعض ما علم من الدين ضرورة كفر بها فلا يصح الاقتداء به اصلا (1) اسی میں بدایہ سے ہے: من شک فی عذابه و کفرہ کفر (۲)۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) بے شک ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) ضرور روکا جائے گا۔ قال اللہ تعالیٰ: إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسْجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ - الآية (۳) در مختار میں ہے " و يمنع منه كل مؤ ذو لو بلسانه (۲)۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) بے شک ضروری ہے کہ مرتد سے کوئی معاملات جائز نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷۶) جواب گزرا کہ ان سے کوئی معاملات جائز نہیں اسی سے حکم ظاہر اور بچے بچیوں کو ان کے پڑھانے میں حرج نہیں بلکہ ضرور انھیں پڑھایا جائے تاکہ وہ ان کی گمراہی سے دور ہیں مگر اس کی اجرت ان کے سر پرستوں سے لینا جائز نہیں اور جو لوگ ان سے معاملات کریں یا میل جول رکھیں وہ اشد گناہ گار ہیں مگر معاذ اللہ کا فرنہیں جبکہ انھیں مرتد جانتے ہوں اور ان سے ملنے جلنے کو حرام سمجھتے ہوں ایسے لوگ بھی قطع تعلق کے مستحق ہیں اور اگر یہ انھیں مسلمان مانتے ہوں یا ان سے میل جول کو جائز جانتے ہوں تو مرتد ہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۸) جماعت اسلامی والے مسلمان نہیں کہ ان کے اقوال کی وجہ سے ان کے اوپر اکثر فقہاء کے نزدیک حکم کفر ہے اور یہی حکم غیر مقلدین کا ہے پھر یہ دونوں دیو بندی کو جن پر اہانت خدا اور رسول کے سبب علمائے حرمین شریفین حکم کفر دے چکے۔ مسلمان سمجھتے ہیں تو یہ حکم فتاوی علمائے حرمین شریفین ہے۔ من شک فی کفره و عذابه فقد کفر (۱) ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله ۱۸ ؍ ربیع الاول ۱۳۹۸ھ (۱) حسام الحرمين على منحر الكفر والمين مع الترجمة، ص ۹۰ ، رضا اکیڈمی