لفظ سنی کی لغوی و شرعی تعریف اور اہل سنت و جماعت کی قدامت کا بیان
کیا جواب دیتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین ان مسئلوں میں کہ: (1) زید کہتا ہے : سنی کہتے ہیں سن کر ایمان لانے والے کو ۔ بکر کہتا ہے بسنی کہتے ہیں سنت پر عمل کرنے والے کو۔ (۲) زید کہتا ہے کہ اہل سنت و جماعت نیا فرقہ ہے۔ المستلقی متولی سلیم احمد
الجواب: (1) یه لفظ ماخوذ ومستفاد ہے سنت سے اور دونوں باتوں میں کوئی منافات نہیں کہ فی الواقع ایمان نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم وصحابہ و تابعین و علمائے دین سے درجہ بدرجہ سن کر ہی ملا ہے، قرآن عظیم کا ارشاد ہے: قَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ) مسلمان کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مانا۔ بایں معنی واقعی سنی سن کر ایمان لایا ہے اور وہ اہل سنت و جماعت ہی ہے مگر محمدہ تعالی سنی کا ایمان ایسا نہیں ہے جیسے سنی سنائی بات جس کا کوئی بھروسہ نہ ہو بحمدہ تعالیٰ سنی کے نزدیک اللہ ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے کلام میں کذب کو دخل نہیں اور وہابیہ کے امام کے نزدیک خدا کا جھوٹ بولناممکن اور (۱) سورة البقره: ۲۸۵ ان کے معتمد ومستند رشید احمد گنگوہی کے نزدیک خدا کا جھوٹ واقع ہے دیکھو یکروزی اسمعیل دہلوی اور فتاوی گنگوہی اور جب خدا کا جھوٹ ممکن تو اس کے کلام کا کیا اعتبار ان کے نزدیک تو انھیں وہابیوں کا ایمان محض نام کا ٹھہر اہنی کے ایمان پر ان کا طعن بیجا ہے۔ ہماری نہ مانیں اپنے قاسم العلوم والخیرات قاسم نانوتوی کی سنیں وہ ” تحذیر الناس“ میں لکھتے ہیں : اس گنہ گار کا اسلام برائے نام ہے ۔ اور اپنے قصیدہ میں لکھتے ہیں : ” کروڑوں جرم کے آگے بد نام کا اسلام کیا کرے گا یا نبی اللہ کیا دے دے گا۔‘ تو جب ان کا ایمان واسلام برائے نام ہے تو دیو بندی جو انھیں امام و پیشوا مانتے ہیں اور سارے وہابی جو انھیں مسلمان سمجھتے ہیں سب کا اسلام نرا نام کا ہوا۔ كَذَلِكَ الْعَذَابُ وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ (۲) زید بے قید غلط کہتا ہے، اہل سنت و جماعت نیا فرقہ نہیں ، ہاں دیابنہ کا فرقہ جو وہابیت کی گود سے نکلا وہ مثل وہابیت ضرور نیا فرقہ ہے جو اپنے امام الطائفہ اسمعیل دہلوی سے سیکھ کر امت مسلمہ کومشرک و بدعتی کہتا نکلا ہے۔ زیدا گریچ کہتا ہے تو دلیل لائے۔ والمولی اتعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله