ایمان و کفر کے احتمالات، اہل سنت کی تعریف اور کتب عقائد کا بیان
(1) اگر کسی کلمہ گو کے کسی کلام میں یا تحریر میں چند احتمالات کفر کے ہوں اور ایک یا چند احتمالات اسلام کے ہوں تو مذہب اہلسنت اور قول امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ کی بنا پر ایسے شخص کو کافر کہا جائے گا یا مسلمان؟ (۷) ہر ایسے کلمے کو جسمیں متعددمختلف احتمالات ہوں جو شخص صرف کفر ہی پر محمول کرے اور اسلام والے پہلو کو نظر انداز کر دے اہلسنت کے مسلک اور امام صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے مذہب کی رو سے وہ شخص کیسا ہے اور اسکا کیا حکم ہے؟ (۸) اہل سنت و جماعت کے عقائد کی مستند کتابیں کون کون ہیں اور کسی عقیدے کے استنباط اور دریافت کرنے کیلئے کس درجہ کی دلیل درکار ہے؟ (۹) اہل سنت و جماعت کی تعریف کیا ہے؟ اور وہ عقائد و اعمال کیا کیا ہیں جنکے کرنے یا نہ کرنے سے کوئی شخص اہل سنت و جماعت سے خارج ہو جائے گا؟ (۱۰) کوئی حنفی اگر غیر حنفی ، شافعی حنبلی ، کی نماز میں اقتداء کرے تو اس پر کیا حکم کیا جائے گا؟ المستفتی : حاجی محمد یسین پہلوان
الجواب: (1) اسلام احکام شرع کی تسلیم و فرماں برداری و تصدیقات کا نام ہے اور کبھی ایمان کے ہم معنی بولا جاتا ہے اور اس تصدیق پر اسلام ایمان کے مرادف ہے اور پہلی تقدیر پر ایمان اخص اور اسلام اہم ہے اور کبھی فقط تسلیم ظاہری پر اطلاق ہوتا ہے اور اس تقدیر پر اسلام ایمان کے مغایر ہے اور کبھی برسبیل تداخل بولا جاتا ہے اور اسلام و ایمان باعتبار مصداق متحد ہیں کہ اسلام ایمان سے جدا نہیں ہوسکتا اور کفر عدم ایمان کا نام ہے۔ عقائد عضدیہ اور اسکی شرح دوانی میں ہے: و الكفر عدم الايمان والايمان في اللغة التصديق لقوله تعالى : وما أنت بمو من لنا اى بمصدق لنا۔ وفی الشرع هو التصديق بما علم مجئى النبي صلى الله عليه وسلم به ضرورة تفصيلا فيما علم تفصيلا و اجمالا فيما علم اجمالا - الخ“ اسی دوانی میں ہے: و اعلم ان الاسلام هو الانقياد الظاهر وهو التلفظ بالشهادتين والاقرار بما يترتب عليه والاسلام الكامل الصحيح لا يكون الا مع الايمان والاتيان بالشهادتين والصلاة والزكاة والصوم والحج وقد ينفك الاسلام الظاهر عن الایمان کما قال الله تعالى : قالت الاعراب أمناقل لم تؤمنوا ولكن قولوا اسلمنا ويصح ان يكون الشخص مسلما فی ظاهر الشرع ولا يكون مؤمنا في الحقيقة والاسلام الحقيقى المقبول عند الله تعالى لا ينفك عن الايمان الحقيقى- الخ (1) اس کے حاشیہ عبدالحکیم سیالکوٹی میں ہے: قوله: (ان الاسلام الخ ) فى الاحياء ان الايمان في اللغة التصديق والاسلام التسليم والاستسلام بالاذعان والانقياد وترك التمرد والعناد والتصديق محله القلب واما التسليم فانه عام فى القلب واللسان والجوارح توجب اللغة ان الاسلام عام والايمان اخص فاذاً كل تصديق تسليم وليس كل تسلیم تصديقا وفي الشرع ورد اطلاقهما على الترادف والتوارد نحو قوله تعالى : فاخر جنامن كان فيها من المؤمنين فما وجدنا فيها غير بيت من المسلمين ولم يكن بالاتفاق الا بیت واحد وورد اطلاقهما علی الاختلاف ايضاً نحو قوله تعالى : قالت الاعراب أمنا الآية والمراد بالايمان ههنا التصديق فقط وبالاسلام الاستسلام باللسان والجوارح " وفی حدیث جبرئيل حين سأله: ما الايمان؟ فقال: الايمان ان تومن بالله وملئكته وكتبه ورسله الخ فقال: ما الاسلام؟ فذكر الخصال الخمس وورد على التداخل ايضاً نحو قوله صلى الله عليه وسلم حين سئل : اى الاعمال افضل؟ فقال: الاسلام۔ فقیل: ای الاسلام افضل؟ فقال: الايمان_اه_“ " فما ذكره الشارح رحمة الله عليه ان الاسلام يطلق على الانقياد ظاهرا وهو (1) الدواني على العقائد العضدية ، ص ۱۰۳ ۱۰۴ مکتبه رحیمیه التلفظ بالشهادتين لا يصح لغة ولا شرعاً فانه في اللغة والشرع الانقياد مطلقا، سواء كان بالقلب او باللسان او بالجوارح الا ان متعلقةً فى الشرح خاص وهو ما جاء به النبي صلى الله عليه وسلم- اه“ (۱) لفظ بدعت شرع میں دو معنی پر آتا ہے معنی اول مخالف و مزاحم ومعارض و مصادم سنت مثل حکم شرع کے برخلاف ہے اور اس کے غیر کی خوبی شرع سے ثابت ہے اس سے ہر مزاحم کی برائی ظاہر ہے اسے اچھا سمجھنا بدعت بایں معنی کہ ضلالت ہونے میں شک نہیں حدیث میں جو بدعت کی شناعت اور بدعتی پر وعید وارد ہے یہی معنی ہے اور اس معنی کے اعتبار سے خوارج، روافض معتزلہ، ظاہر یہ وغیر هم بد مذہبوں کو اہل بدعت کہتے ہیں اور عقائد وہابیہ اسی معنی میں داخل اور یہ لوگ باعتبار اس معنی کے اہل بدعت میں شامل ہیں غالب استعمال اس کا عقائد ہی میں ہے رئیس امحققین شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے شرح سفر السعادۃ میں لکھا ہے " غالب در استعمال بدعت، در اعتقاد مراد افتد چنانکه مذاہب باطلہ اہل زیغ از فرق اسلامیه (۲) متعدد احادیث واقوال علماے قدیم وحدیث میں بدعت کا سنت سے مقابلہ قرینہ واضح اس استعمال کا ہے امام شافعی اور امام ابن الحزرمی و امام غزالی و امام محقق دهلوی و امام قزوینی وعلامه تفتازانی و امام سیوطی و امام صدر الدین ابن عمر ومصنف در مختار وشاہ عبدالعزیز دہلوی وغیر ہم بہت اکا بر ائمہ متقدمین و علماے متأخرین نے بدعت کو اسی معنی کے ساتھ تفسیر اور بدعت ضلالت سے تعبیر کیا ہے اور بعض وہابیہ کا اس معنی سے انکار اور اسمیں تاویل کرنا کچھ وقعت نہیں رکھتا نہ اس سے حضرات مذکورین کے معنی کا رد ہو سکے اور تاویل انکی بے ضرورت ہے کہ تعدد معنی موجب دفع تعارض و اختلاف۔ معنی دوم جو فعل بعینہ وہیئت کذائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ آپ کیا نہ امت کو حکم دیانہ بر قرار رکھنا منقول ہوا گو اصل اسکی شرع سے ثابت اور مقصود شرع کے مناسب اور قواعد حسن و وجوب کے تحت مندرج اور مصالح دینیہ پر مشتمل ہو بدعت بایں معنی علی الاطلاق گمراہی و ضلالت نہیں حسنہ بھی ہوتی ہے اور اقسام، پنجگانہ واجب مستحب مباح مکر وہ حرام کی طرف تقسیم کی جاتی ہے اصل اس تقسیم کی احادیث و آثار تحریر سے ثابت امام ابو شامہ و امام نووی اسے متفق علیہ فرماتے ہیں اور علامہ ابن حجر نے فتح المبین میں کہا: والحاصل ان البدعة الحسنة متفق على ندبها وعمل المولد و اجتماع الناس له کذالک (۱) یعنی بدعت حسنہ کے مندوب ہونے پر اتفاق ہے اور عمل مولد اور لوگوں کا اس کے لئے جمع ہونا ایساہی ہے اور تشبیہ بقیہ میں تصریح ہے کہ اسلام کے فرقوں میں کوئی اس قسم کی بدعت کو برانہیں سمجھتا یہاں تک کہ مخالفوں کے رئیس المتکلمین نواب صدیق حسن خاں بھو پالی کلمتہ الحق میں اقرار کرتے ہیں کہ اس تقسیم پر ہزار برس تک علماء کا اتفاق رہا اور کسی عالم نے ہزار اول میں کلام نہ کیا صرف محرر صاحب ہزار دوم میں وفق کے انکاری ہوئے اور سیرت شامی میں معرفتہ اقسام بدعت کا طریق امام عزالدین ابن عبد السلام سے اس طرح نقل کیا ہے: تعرض البدعة على قواعد الشرعية فاذا ادخلت في قواعد الايجاب فهي واجبة او في قواعد التحريم فهي محرمة أو الندب فمندوبة او المكروه فمكروهة أو المباح فمباحة (٢) اور عینی شرح بخاری میں ہے: ان كانت ممايندرج تحت مستحسن في الشرع فهي بدعة حسنة وان كانت مما يندرج تحت مستقبح في الشرع فهي بدعة مستقبحة (۳) اور محقق دہلوی شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں: بدانکہ ہر چہ پیدا شود بعد از پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم بدعت است و از آنچه موافق اصول و قواعد سنت اوست وقیاس کرده شده است بر آن را بدعت حسنه گویند و آنچه مخالف آن باشد بدعت ضلالت خوانند و کیفیت كل بدعة ضلالة محمول بریس است و بعض بدعتهاست که واجب است ال (۴) سنت: اصطلاح فقہاء میں اس فعل کو کہتے ہیں جس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا یا انکے سامنے ہوا اور بمعنی طریقہ مسلوکہ فی الدین بھی سنت کا اطلاق ہوتا ہے اور اس معنی پر بدعت حسنہ سنت میں داخل ہے اور بدعت کے معنی میں وہابیہ کی یہ گڑھت کہ جو قرون ثلثہ میں نہ ہو عبارت علماء سے وہ خود بدعت ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) اہل قبلہ وہ لوگ ہیں جو تمام ضروریات دین کو مانتے ہیں انکی تکفیر جائز نہیں مگر یہ کہ ضروریات دین میں سے جو کسی کا انکار کرے اسکی تکفیر کی جائے گی اور یہ علماء کے درمیان متفق علیہ ہے یہاں تک کہ وہابیہ منکرین کے مستند و معتمد انور شاہ کشمیری کو بھی اعتراف ہے وہ اکفار الملحدین من ضروریات الدین “ میں رقم طراز ہیں: بل التحقيق ان المراد” باهل القبلة في هذه القاعدة: هم الذين لاينكرون ضروريات الدين لامن يوجه وجهه الى القبلة في الصلوة قال الله تعالى: ليس البر أن تولوا وجوهكم قبل المشرق والمغرب ولكن البر من أمن بالله واليوم الآخر الخ فمن انكر ضروريات الدين لم يبق من اهل القبلة- الخ ) ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) ضروریات دین تین امور میں منحصر ہیں۔ قرآن شریف کے وہ مدلول معنی قطعی جس کی تاویل ممکن نہ ہو جیسے ماؤں بیٹیوں کی حرمت اور شراب کی حرمت اور جوئے کی حرمت اور اللہ تعالیٰ کے لئے علم وقدرت وارادہ، کا اثبات اور سابقین انصار و مھاجرین کا مرضی منظم ہونا اور انکی اہانت و تحقیر نا جائز جاننا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کی فرضیت اور انکی اہانت کی حرمت بدرجہ اولی۔ سنت متواترہ لفظاً یا معنی کا مدلول خواہ عقائد سے ہو خواہ اعمال سے فرض ہو یا نفل جیسے اہلبیت یعنی حضور کی ازواج و بنات کی محبت کا وجوب اور وجوب جمعہ و جماعت واذان وعید ین۔ جس پر اجماع قطعی ہو جیسے خلافت صدیق و فاروق رضی اللہ عنہما اور اسی قبیل سے بہت سے امور، ضروریات دین سے ہیں انتھی۔ (1) اکفار الملحدین من ضروریات الدین ج ۱، ص ۱۲۲ ، المجلس العلمی پاکستان الفار الملحدین میں انور شاہ رقم طراز ہیں: لان ضروريات الدين منحصرة عندهم في ثلثة: مدلول الكتاب بشرط ان يكون نصاصریحا كما لا يمكن تاويله كتحريم الامهات والبنات وتحريم الخمر والميسر واثبات العلم والقدرة والارادة والكلام له تعالى وكون السابقين الاولين من المهاجرين والانصار مرضيين عند الله تعالى وأنه لا يجوز اهانتهم والاستخفاف بهم ومدلول السنة المتواترة لفظا او معنى سواء كان من الاعتقاديات أو من العمليات وسواء كان فرضاء او نفلاً كوجوب محبة اهل البيت من الازواج والبنات والجمعة والجماعة والاذان والعيدين والمجمع عليه اجماعاً قطعياً كخلافة الصدیق والفاروق ونحو ذلك) اسی طرح وحدانیت باری تعالیٰ اور اسکے صانع عالم و مختار ہونیکا اقرار اور نبوت کے خاصہ علم غیب کا اقرار بھی ضروریات دین سے ہے اصلاً نبوت اور ختم نبوت کا منکر یا مطلقا علم غیب کا منکر منکر قرآن اور دشمن ایمان ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) کا فرمومن کی ضد ہے جیسے کفر ایمان کی اور کا فروہی ہے جو اللہ اور رسول کی تصدیق نہ کرے بلکہ انہیں جھٹلائے اور ان کے احکام کا رد کرے اور انکار ورد کی صورتیں بہت ہیں ان میں سے جو بھی پائی جائے گی اس پر کافر ہونے کا حکم ہوگا جیسے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یا انکے زمانے میں کسی نبی کی بعثت کوممکن ماننا دیکھو تحذیرالناس (۲) ان کے وصف جلیل ونظیم علم غیب میں جانوروں پاگلوں چوپایوں کو شریک کرنا جیسا کہ اشرفعلی نے حفظ الایمان میں لکھا ہے (۳) اور شیطان کے لئے حضور سے زیادہ علم بتانا جیسے کہ براہین قاطعہ میں خلیل احمد نے لکھا (۴) (1) اكفار الملحدين من ضروريات الدین، ج ۱، ص ۱۲۲ ، المجلس العلمی، پاکستان (۲) تحذیر الناس ص ۴۰ مطبع فیصل پبلیکیشنز دیو بند حفظ الایمان مع بسط البنان ، ص ۸، کتب خانہ اعزازیہ (۴) براہین قاطعه ، ۱۲۲، کتب خانہ امدادیہ یونہی حضور علیہ السلام کیلئے دیوبند میں اردو سیکھنے کی بکواس جیسا کہ براہین قاطعہ میں ہے یونہی حضور کے میلاد کو کنہیا کے جنم سے نسبت دینا بلکہ بدتر بتا نا جیسا کہ اسی براہین قاطعہ میں ہے خدائے تعالیٰ کو جھوٹا بتانا ( فتوی گنگوہ) اور یونہی کافروں کی سمادھی پر پھول چڑھانا اور انکے لئے قرآن پڑھنا جیسا کہ وہابیہ زمانہ کاشعار بد ہے یہ سب امور علامات کفر ونقل ایمان و امارات روانکار ہیں اور جس سے یہ باتیں صادر ہوں وہ کافر ہے اور جو انکی تعظیم کرے انہیں مقتدائے دینی مانے وہ بھی کافر ہے بلکہ جو انکے کفر اور عذاب میں شک کرے وہ بھی کا فر ہے یہی وہ فتویٰ ہے جو حرمین شریفین و مصر و ہند وسندھ کے علماء نے ایسوں پر صادر فرما یا شفاو شرح شفا میں ہے: {وانه لا يكفر احد بقول ولا رأى أى اعتقاد مما يكفر به { الا ان يكون هو الجهل بالله فان عصى الله } ورسوله بقول أو فعل نص الله ورسوله } صلى الله تعالى عليه وسلم { أو اجمع المسلمون أنه لا يوجد الا من كافر أو يقوم دليل آخر } نقلا أو عقلا { على ذلك } أى على أنه لايوجد الا من كافر لكونه من شعارهم فقد كفر ليس لاجل قوله وفعله } الذي لا يوجد الا من كافر { بل لما قارنه من الكفر فالكفر بالله لا يكون الا بأحد ثلثة امور احدها الجهل بالله والثانى أن يأتي فعلا او يقول قولا يخبر الله ورسوله أو يجمع المسلمون على أن ذلك الفعل او القول { لا يكون الا من كافر كالسجود للصنم و المشى الى الكنائس } أى من زيهم { بالتزام الزنار مع اصحابها فى اعياد هم او غيرها { أو يكون ذلك القول او الفعل لا يمكن } أى لا يتصور {معه العلم بالله } کانکار فرض مجمع عليه والقاء مصحف في قاذورة {فهذان الضربان }أى النوعان من اتيان الفعل أو القول { وان لم يكونا جهلاً بالله تعالى فهما علم } أى علامة (أن فاعلهما كافر منسلخ من الايمان ) أى خارج عنه اه ملتقطا “ اسی شفا میں ہے: وو ولهذا نكفر من لم يكفر من دان بغير ملة المسلمين من الملل او وقف فيهم اوشک او صحح مذهبهم و ان اظهر مع ذلك الاسلام و اعتقده و اعتقد ابطال كل مذهب سواه فهو كافر باظهاره ما اظهر من خلاف ذلک - اه (1) در مختار میں ہے: من شک فی عذابه و کفره کفر (۲) اسی میں ہے: تبجيل الکافر کفر (۳)۔ واللہ تعالی اعلم (۵) تاویل کی تین قسم ہے قریب، بعید، متعذر، کمانی منتهی السئول فصول البدائع وغيرهما ثالث ۔ حقیقہ تاویل نہیں تحویل ہے، باعتبار زعم مرتکب ۔ یا تجریدا اس پر بھی اطلاق ہے قول علما لا يقبل التاويل في الضروری“ میں ضرور یہی مراد کہ ضروری میں غیر متعذ رمتعذر۔ یہی معنی تاویل متعین میں متعین ، ورنہ متعین نہ ہو ، ہاں مبین میں سب قسمیں ممکن۔ جمہور فقہاء کے نزدیک اکفار متین کافی۔ عامہ حنفیہ ومالکیہ وحنبلیہ اور بہت شافعیہ کا یہی مسلک ۔ اور اکثر متکلمین وفقہائے محققین حنفیہ وغیرھم شارط تعیین۔ مسح الروض میں ہے: عدم التكفير مذهب المتكلمين (٢) لا جرم تاویل صحیح اگر چہ کتنی ہی بعید ہو تکلمین قبول کرینگے یہ وہ ہے کہ متقین محتاطین نے فرمایا کہ ایک بات میں نانوے پہلو کفر کے ہوں اور ایک اسلام کا تو پہلوئے اسلام کو ترجیح دینگے، اسی لئے در مختار میں بحوالہ در رفرمایا: "اذا كان فى المسئلة وجوه توجب الكفر و واحد يمنعه فعلى المفتى الميل لما يمنعه ثم لو نيته ذلك فمسلم و الالم ينفعه حمل المفتى على خلافه “ (1) لیکن عامہ فقہاء کرام کے یہاں معنی ظاہر پر عمل اور احتمال بعید نامستقبل ، اور باطن مفوض بعلیم عز وجل، امام ابن حجر با آنکہ بہت احتیاط برتتے ہیں اعلام میں فرماتے ہیں: الذى يتحرر أنه بالنسبة لقواعد الحنفية والمالكية وتشديد اتهم يكفر عندهم مطلقا، اما بالنسبة لقواعدنا وما عرف من كلام أئمتنا فاللفظ ظاهر في الكفر، وعند ظهور اللفظ فيه لا يحتاج الى نيته كما علم من فروع كثيرة وان اول قيل منه (۲) نیز فرماتے ہیں: ”عملنا بما دل عليه لفظه صريح وقلنا له: أنت حيث اطلقت هذا اللفظ ولم تؤول كنت كافراً وان كنت لم تقصد ذلك لانا انما نحکم بالکفر باعتبار الظاهر وقصدک عدمه انما ترتبط به الاحكام باعتبار الباطن ، فاللفظ اذا كان محتملا لمعاني فان كان في بعضها اظهر حمل عليه وكذا ان استوت ووجد لاحد هما مرجح، والارادة وعدمها لا شغل لنا بها هذا كله مقتبس من الموت الاحمر (۳) کلام کا کفری معنی میں متعین ہونا ضرور لہذا ان کے نزدیک تاویل قریب و بعید مقبول ومانع تکفیر ٹھہرے گی مگر تاویل قائل کو اسی وقت فائدہ دیگی جبکہ اس نے معنی کفری مراد نہ لئے ہوں ورنہ بالا تفاق سب کے نزدیک کافر ہوگا اور جمہور فقہاء کے نزدیک معنی کفری میں اور ارادیت سے انہیں بحث نہیں جیسا کہ ابھی معلوم ہوا۔ نیز حاشیہ عبدالحکیم سیالکوٹی علی الدوانی میں ہے: فعلم ان طريقة الفقهاء غير طريقة المتكلمين لان الفقهاء سلكو الطريق الاحوط كي لا يقع المسلم فيما فيه احتمال الكفر والمتكلمون اخذوا الطريق الا سلم حيث لا" ينسبون الكفر الی احد - اه (۱)۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) جواب نمبر ۵ میں مفصل گذرا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) کلام اگر معنی کفری میں ظاہر ہوا ہے اس سے بہ اعتبار ظاہر قاتل کی تکفیر جائز ہے اس لئے منع نہیں کیا جائے گا اور نہ اس پر کچھ الزام عائد فقہاء کے مذہب پر عامل ہے اگر چہ متکلمین عدم تکفیر وکف لسان۔ اس کی نظیر یہ ہے کہ فقہ اکبر میں امام اعظم نے قرآن عظیم کو مخلوق بتانے والے کو کا فر فر مایا: وو ،، و من قال انه مخلوق فهو كافر بالله العظيم (۲) یہ وہی تکفیر فقہی ہے حالانکہ مواقف وشرح مواقف میں فرمایا: ( الثالث : قولهم بخلق القرآن وفي الحديث الصحيح من قال: القرآن مخلوق فهو كافر قلنا احاد فلايفيد علما ( او المراد بالمخلوق) هو (المختلق أى المفترى) يقال: خلق الافك واختلقه وتخلقه افتراه وهذا كفر بلاخلاف، والنزاع في كونه مخلوقا بمعنى أنه حادث - اه (۳) ،، اب سائل بتائے کہ اس کے نزدیک امام اعظم پر کیا حکم ہے۔ اللہ تعالیٰ اعلم (۸) عقائد نسفی، شرح عقائد عضدیہ، شرح عضدیہ، جوہر، متوحد یہ تحفہ المرید ومسايره ومسامره ، فقہ اکبر، شرح فقہ اکبر، بدء الامالی ، شرح بدء الامالی، المعتقد المنتقد لعلامہ فضل رسول بدایونی، والمستند المعتمد لسيدنا الامام المجد داحمد رضا خاں، وغیر با عقائد میں دلیل قطعی درکار ہے۔ مواقف وشرح مواقف سے گذرا: (۱) قلنا أحاد فلا يفيد علما (٢) نیز اسی میں ہے: نیز اسی میں ہے: فمن قبيل الأحاد فلا يكفر المسلم بانكارها ) قلنا أحادو قد اجمعت الامة على ان انكار الأحادليس كفر ااه (۲) واللہ تعالیٰ اعلم
(۱) شرح المواقف المرصد الثالث، المقصد الخامس، باب الاتفاق على انه لايكفر احدمن اهل القبلة، ج ۸، ص ۳۷۴، دار الكتب العلمية، بيروت (۲) شرح المواقف المرصد الثالث، المقصد الخامس ، باب الاتفاق على انه لا يكفر احد من اهل القبلة، ج ۸، ص ۳۷۵ دار الكتب العلمية، بيروت (۹) اہل سنت وہی لوگ ہیں جو تمام ضروریات دین کو مانتے ہیں اور ان سے کسی مسئلہ ضرور یہ دینیہ کا انکار قولا وفعلا کسی طرح صادر نہیں ہوتا اور جو کسی خلاف شرع کو اچھا یا امر مستحسن شرعا مثلا میلا دو فاتحہ تقبیل ابھا مین واذان قبور کو برا نہیں جانتے اور توسل اور امداد اولیا اور تقلید ائمہ کو شرک نہیں بتاتے ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۰) سنی صحیح العقید و حنفی اپنے مثل شافعی کی اقتداء کر سکتا ہے جبکہ شافعی اسکے مذہب کی رعایت کرے اسی طرح سنی شافعی سنی حنفی کی اقتداء کر سکتا ہے بد عقیدہ و بد مذہب دیو بندی و غیر مقلد نہ حنفی نہ شافعی انکی اقتداء جائز نہیں۔ ان الصلاة خلف اهل الاهواء لا تجوز (۳) امام صاحب فرماتے ہیں : در مختار میں ہے: وان انكر بعض ما علم من الدين ضرورة كفر فلا يصح الاقتداء به اصلاً - اه (۴)
(۳) فتح القدير، كتاب الصلاة، باب الامامة ج ۱، ص ۳۰۴، دار الكتب العلمية، بيروت (۴) الدر المختار، کتاب الصلاة، باب الامامة ، ج ۲، ص ۳۰۱ ۳۰۰ دار الكتب العلمية، بيروت واللہ تعالی اعلم وصلی اللہ تعالی علی سید نامحمد واله وصحبہ وبارک وسلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ورذی قعده صح الجواب واللہ تعالی اعلم تحسین رضا غفرلہ