عقائد کی تعلیم کی اہمیت اور مکاشفتہ القلوب سے جاہل کا وعظ کرنے کا حکم
آپ کیوں روتے ہیں الخ۔ اسی طرح باب وفات النبی میں کچھ حدیثیں اور دوسرے مقام پر بھی ایسی ہی حدیثیں ہیں ۔ (۱) جواب طلب امر یہ ہے کہ عقائد کی تبلیغ نہ کی جائے اور اعمال کی تبلیغ کی جائے یہ درست ہے؟ (۲) جو حالت او پر بیان کی گئی درس دینے والے کی ایسی حالت میں درس دینا یعنی پڑھ کر سنانا جائز ہے جواب سے احکامات شرعیہ وحوالہ جات رقم فرما ئیں۔
الجواب: (1) عقائد ضرور یہ دینیہ کی تعلیم اہم اقدام ہے اس میں کو تا ہی حرام ہے اور اس سے ممانعت اشد حرام ہے دعوت اسلامی کے امیر الیاس عطار قادری نے عقائد کی تعلیم سے منع نہ کیا ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) صورت مسئولہ میں ایسے لوگوں کو درس دینا جائز نہیں ہے۔ معتمد علماے اہل سنت کی وہ کتب جو عقائد صحیحہ پر مشتمل ہوں اور ضروری مسائل پر حاوی ہوں پڑھ کر سنا سکتے ہیں۔ امام غزالی کی کتاب مکاشفۃ القلوب عمدہ کتاب ہے مگر اس میں وہ روایت ضرور مجمل ہے اسے یونہی عوام کو سنا دینا ضر ورسید الانبیاء علیہ وعلیہم الصلاۃ والسلام والثنا کی جناب عصمت مآب کا آلودہ از گناہ ہونے کا موہم ہوگا وعظ کرنے والا اگر عالم ہوتا تو ضرور اس کو بیان کرتا یا اسے سنانے سے احتراز کرتا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۵ / جمادی الآخره ۱۴۰۷ھ