ہندو کی میت میں شریک ہونے والے شخص پر کفر کا حکم اور تجدید نکاح کا مسئلہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : ایک شخص ہندو کی میت میں گیا تھا، اس کو لوگوں نے اپنی جماعت سے الگ کر دیا یہاں تک کہ کھانا پینا اس کے یہاں کا بند کر دیا اور زید کہتا ہے کہ ان کو تو بہ کرنا ہوگا اور وہ شخص کہتا ہے کہ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ ہندو کی میت میں جانا کیسا ہے؟ زید کہتا ہے تم کو نکاح پھر سے کرنا ہوگا اس صورت حال میں کونسا راستہ اختیار کرنا ہو گا جواب سے ممنون و مشکور فرما دیں۔ المستفتی: محمد رفیق احمد، بریلی شی
الجواب: زید سخت گنہگار ہوا اس پر تو بہ لازم ہے مگر ایسا کرنے سے وہ کافر نہ ہو گیا کہ تجدید نکاح اس پر لازم ہو جائے تجدید نکاح کا حکم نہ کریں گے جب تک کہ ثابت نہ ہو کہ وہ حلال سمجھ کر اس کی میت میں شریک ہوا مسلم سے ایسا گمان حرام ہے ہاں بہتر ہے کہ تجدید ایمان و تجدید نکاح کرلے۔ صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی