عقیدہ ضرور یہ دینیہ کی تعلیم میں کوتا ہی حرام ہے !
۹ رذی الحجہ ۱۴۰۷ھ جناب مفتی صاحب قبلہ دامت برکاتہم السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ! بعد سلام عرض ہے کہ ہمارے پاکستان کراچی میں ایک تنظیم المعروف بہ ”دعوت اسلامی“ معرض وجود میں آئی ہے جو تبلیغ دین کرتی ہے اس تنظیم کا بانی اپنے آپ کو بریلوی بتاتا ہے اور عقائد وغیرہ کی تبلیغ سے منع کرتا ہے اور کہتا ہے مثبت انداز میں تبلیغ کرو اور دوسری بات یہ کہ اس کا کہنا ہے جو شخص اردو پڑھنا جانتا ہے اور اردو کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے وہ امام غزالی کی کتاب ”مکاشفۃ القلوب‘ سے درس دے سکتا ہے لہذا یہاں تقریباً ہر مسجد میں کوئی نہ کوئی صاحب جو میٹرک پاس ہے یا انٹر پاس ہے اور دینی علوم سے عاری ہے یعنی نہ کسی مدرسہ سے علم حاصل کیا نہ کسی استاد سے کوئی فن پڑھا اور نہ کوئی چھوٹی موٹی اصول کی کتاب پڑھی بس اردو جانتا ہے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے وہ روزانہ درس دیتا ہے یعنی مکاشفۃ القلوب پڑھ کر سناتا ہے حالانکہ مکاشفۃ القلوب میں بہت سی حدیثیں ایسی ہیں جن کے متن سے کچھ اور ظاہر ہوتا ہے اور اس کی شرح سے حدیث کا صحیح مطلب معلوم ہوتا ہے جو مکاشفۃ القلوب میں نہیں لکھی ہوئی ہے مثلاً ص ۴۳ باب خوف خدا حضرت زکریا علیہ السلام کا واقعہ ص ۳۵۷ باب شکر میں حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث کہ آپ کے تو گزشتہ اور آئندہ کے سب گناہ اللہ تعالیٰ نے معاف فرمادیے ہیں پھر
الجواب:(1) عقائد ضرور یہ دینیہ کی تعلیم اہم اقدام ہے اس میں کو تا ہی حرام ہے اور اس سے ممانعت اشد حرام ہے دعوت اسلامی کے امیر الیاس عطار قادری نے عقائد کی تعلیم سے منع نہ کیا ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم(۲) صورت مسئولہ میں ایسے لوگوں کو درس دینا جائز نہیں ہے۔ معتمد علماے اہل سنت کی وہ کتب جو عقائد صحیحہ پر مشتمل ہوں اور ضروری مسائل پر حاوی ہوں پڑھ کر سنا سکتے ہیں۔ امام غزالی کی کتاب مکاشفۃ القلوب عمدہ کتاب ہے مگر اس میں وہ روایت ضرور مجمل ہے اسے یونہی عوام کو سنا دینا ضر ورسید الانبیاء علیہ وعلیہم الصلاۃ والسلام والثنا کی جناب عصمت مآب کا آلودہ از گناہ ہونے کا موہم ہوگا وعظ کرنے والا اگر عالم ہوتا تو ضرور اس کو بیان کرتا یا اسے سنانے سے احتراز کرتا۔ واللہ تعالیٰ اعلمفقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله